عَائِشَةَ
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سعید بن یسار نے) کہا: (یہ حدیث سن کر) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں کسی طرح کی تصویریں ہوں۔)“ کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی جو انہوں نے بیان کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں (میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے) لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک موٹا سا کپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنا دیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے (دو ٹکڑے کر دیے اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔“) (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے (بنانے کے لیے دو ٹکڑے) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5520]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة