أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ، قَالَ، إِنَّهُ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟، قُلْتُ: لَا: قَالَ: بَلَى قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انہیں بکیر بن اشج نے حدیث سنائی، انہیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں حدیث سنائی اور (اس وقت) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولانی تھے۔ (کہا) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔“ بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے، ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ہم نے ان کے گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا (حضرت زید بن خالد نے) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی؟ (عبید اللہ نے) کہا: انہوں نے (ساتھ ہی یہ) کہا تھا: (سوائے کپڑے کے نقش کے) کیا آپ نے نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة