بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1751 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، هُشَيْمٌ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے، انہوں نے کہا: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور انہوں (ابومحمد) نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4566]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4566 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، هُشَيْمٌ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے، انہوں نے کہا: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور انہوں (ابومحمد) نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4566]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1751 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبَا قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابومحمد (المعروف بہ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4567 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبَا قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابومحمد (المعروف بہ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1751 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَا لِلنَّاسِ؟، فَقُلْتُ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ، فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ "، فَأَعْطَانِي، قَالَ: فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب (دشمن سے) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی۔ کہا: میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا، وہ (اسے چھوڑ کر) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس (دبانے) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کا حکم ہے۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی کو قتل کیا، (اور) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل (نشانی وغیرہ) ہو تو اس (مقتول) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا۔ کہا: تو میں کھڑا ہوا اور کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔ کہا: تو میں کھڑا ہوا اور کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا۔ کہا: میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں ان کے حق سے (دستبردار ہونے پر) مطمئن کر دیجیے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا: وہ انہی کو دے دو۔ تو اس نے (وہ سامان) مجھے دے دیا، کہا: میں نے (اسی سامان میں سے) زرہ فروخت کی اور اس (کی قیمت) سے (اپنی) بنو سلمہ (کی آبادی) میں ایک باغ خرید لیا۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام (کے زمانے) میں بنایا۔ لیث کی حدیث میں ہے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے۔ لیث کی حدیث میں ہے: (انہوں نے کہا) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4568]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4568 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَا لِلنَّاسِ؟، فَقُلْتُ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ، فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ "، فَأَعْطَانِي، قَالَ: فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب (دشمن سے) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی۔ کہا: میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا، وہ (اسے چھوڑ کر) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس (دبانے) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کا حکم ہے۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی کو قتل کیا، (اور) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل (نشانی وغیرہ) ہو تو اس (مقتول) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا۔ کہا: تو میں کھڑا ہوا اور کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔ کہا: تو میں کھڑا ہوا اور کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا۔ کہا: میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں ان کے حق سے (دستبردار ہونے پر) مطمئن کر دیجیے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا: وہ انہی کو دے دو۔ تو اس نے (وہ سامان) مجھے دے دیا، کہا: میں نے (اسی سامان میں سے) زرہ فروخت کی اور اس (کی قیمت) سے (اپنی) بنو سلمہ (کی آبادی) میں ایک باغ خرید لیا۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام (کے زمانے) میں بنایا۔ لیث کی حدیث میں ہے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے۔ لیث کی حدیث میں ہے: (انہوں نے کہا) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4568]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1752 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ: مِثْلَهَا قَالَ: فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ؟، قَالَ: فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: أَيُّكُمَا قَتَلَهُ، فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُ، فَقَالَ: هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟، قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا قَتَلَهُ "، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بدر کے دن جب میں صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف نظر دوڑائی تو میں انصار کے دو لڑکوں کے درمیان میں کھڑا تھا، ان کی عمریں کم تھیں، میں نے آرزو کی، کاش! میں ان دونوں کی نسبت زیادہ طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا، (اتنے میں) ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ لگا کر متوجہ کیا اور کہا: چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ کہا: میں نے کہا: ہاں، بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس وقت تک اس کے وجود سے الگ نہیں ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جلد تر مرنے والے کو موت آ جائے۔ کہا: میں نے اس پر تعجب کیا تو دوسرے نے مجھے متوجہ کیا اور وہی بات کہی، کہا: پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ میری نظر ابوجہل پر پڑی، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا۔ تو میں نے (ان دونوں سے) کہا: تم دیکھ نہیں رہے؟ یہ ہے تمہارا (مطلوبہ) بندہ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ کہا: وہ دونوں یکدم اس کی طرف لپکے اور اس پر اپنی تلواریں برسا دیں حتی کہ اسے قتل کر دیا، پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پوچھا: تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ ان دونوں میں سے ہر ایک نے جواب دیا: میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے دونوں تلواریں دیکھیں اور فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور اس کے سازوسامان کا فیصلہ آپ نے معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں دیا۔ اور وہ دونوں جوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہم تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4569]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4569 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ: مِثْلَهَا قَالَ: فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ؟، قَالَ: فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: أَيُّكُمَا قَتَلَهُ، فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُ، فَقَالَ: هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟، قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا قَتَلَهُ "، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بدر کے دن جب میں صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف نظر دوڑائی تو میں انصار کے دو لڑکوں کے درمیان میں کھڑا تھا، ان کی عمریں کم تھیں، میں نے آرزو کی، کاش! میں ان دونوں کی نسبت زیادہ طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا، (اتنے میں) ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ لگا کر متوجہ کیا اور کہا: چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ کہا: میں نے کہا: ہاں، بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس وقت تک اس کے وجود سے الگ نہیں ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جلد تر مرنے والے کو موت آ جائے۔ کہا: میں نے اس پر تعجب کیا تو دوسرے نے مجھے متوجہ کیا اور وہی بات کہی، کہا: پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ میری نظر ابوجہل پر پڑی، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا۔ تو میں نے (ان دونوں سے) کہا: تم دیکھ نہیں رہے؟ یہ ہے تمہارا (مطلوبہ) بندہ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ کہا: وہ دونوں یکدم اس کی طرف لپکے اور اس پر اپنی تلواریں برسا دیں حتی کہ اسے قتل کر دیا، پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پوچھا: تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ ان دونوں میں سے ہر ایک نے جواب دیا: میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے دونوں تلواریں دیکھیں اور فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور اس کے سازوسامان کا فیصلہ آپ نے معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں دیا۔ اور وہ دونوں جوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہم تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4569]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1753 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لِخَالِدٍ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ؟، قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَمَرَّ خَالِدٌ، بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ: لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِيهِ، فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب (مقتول کا سازوسامان) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ (اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: وہ (سامان) ان کے حوالے کر دو۔ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا: کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا: خالد! اسے مت دو، خالد! اسے مت دو۔ کیا تم میرے (مقرر کیے ہوئے) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو (کہ میں اصلاح کروں، تم طعن و تشنیع نہ کرو!) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا، اس نے انہیں چرایا، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4570]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4570 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لِخَالِدٍ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ؟، قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَمَرَّ خَالِدٌ، بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ: لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِيهِ، فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب (مقتول کا سازوسامان) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ (اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: وہ (سامان) ان کے حوالے کر دو۔ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا: کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا: خالد! اسے مت دو، خالد! اسے مت دو۔ کیا تم میرے (مقرر کیے ہوئے) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو (کہ میں اصلاح کروں، تم طعن و تشنیع نہ کرو!) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا، اس نے انہیں چرایا، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4570]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1753 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْحَدِيثِ، قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا۔۔، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا: عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلب (مقتول کے سازوسامان) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4571 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْحَدِيثِ، قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا۔۔، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا: عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلب (مقتول کے سازوسامان) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1754 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ، فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ، فَأَتَى جَمَلَهُ، فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ، قَالَ سَلَمَةُ: وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ، فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟، قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایاس بن سلمہ نے کہا: مجھے میرے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں حنین کی جنگ لڑی، اس دوران میں ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے کہ سرخ اونٹ پر ایک آدمی آیا، اسے بٹھایا، پھر اس نے اپنے پٹکے سے چمڑے کی ایک رسی نکالی اور اس سے اونٹ کو باندھ دیا، پھر وہ لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے آگے بڑھا اور جائزہ لینے لگا، ہم میں کمزوری اور ہماری سواریوں میں دبلا پن موجود تھا، ہم میں کچھ پیدل بھی تھے، اچانک وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی، پھر اسے بٹھایا، اس پر سوار ہوا اور اسے اٹھایا تو وہ (اونٹ) اسے لے کر دوڑ پڑا۔ (یہ دیکھ کر) خاکستری رنگ کی اونٹنی پر ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی دوڑتا ہوا نکلا، میں (پیچھا کرنے والے مسلمان کی) اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا، پھر میں آگے بڑھا حتی کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا، جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار نکالی اور اس شخص کے سر پر وار کیا تو وہ (گردن سے) الگ ہو گیا، پھر میں اونٹ کو نکیل سے چلاتا ہوا لے آیا، اس پر اس کا پالان اور (سوار کا) اسلحہ بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سمیت میرا استقبال کیا اور پوچھا: اس آدمی کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع رضی اللہ عنہ نے۔ آپ نے فرمایا: اس کا چھینا ہوا سازوسامان اسی کا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4572 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ، فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ، فَأَتَى جَمَلَهُ، فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ، قَالَ سَلَمَةُ: وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ، فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟، قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایاس بن سلمہ نے کہا: مجھے میرے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں حنین کی جنگ لڑی، اس دوران میں ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے کہ سرخ اونٹ پر ایک آدمی آیا، اسے بٹھایا، پھر اس نے اپنے پٹکے سے چمڑے کی ایک رسی نکالی اور اس سے اونٹ کو باندھ دیا، پھر وہ لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے آگے بڑھا اور جائزہ لینے لگا، ہم میں کمزوری اور ہماری سواریوں میں دبلا پن موجود تھا، ہم میں کچھ پیدل بھی تھے، اچانک وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی، پھر اسے بٹھایا، اس پر سوار ہوا اور اسے اٹھایا تو وہ (اونٹ) اسے لے کر دوڑ پڑا۔ (یہ دیکھ کر) خاکستری رنگ کی اونٹنی پر ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی دوڑتا ہوا نکلا، میں (پیچھا کرنے والے مسلمان کی) اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا، پھر میں آگے بڑھا حتی کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا، جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار نکالی اور اس شخص کے سر پر وار کیا تو وہ (گردن سے) الگ ہو گیا، پھر میں اونٹ کو نکیل سے چلاتا ہوا لے آیا، اس پر اس کا پالان اور (سوار کا) اسلحہ بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سمیت میرا استقبال کیا اور پوچھا: اس آدمی کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع رضی اللہ عنہ نے۔ آپ نے فرمایا: اس کا چھینا ہوا سازوسامان اسی کا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة