أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، وَبُدَيْلٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَبُدَيْلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا "، ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي هُوَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوربیع زہرانی نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب اور بدیل نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا، اور میں آپ اور پوچھنے والے کے درمیان میں تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعتیں، پھر جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“ پھر سال کے بعد ایک آدمی نے آپ سے پوچھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب اسی جگہ (درمیان میں) تھا اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ پہلے والا آدمی تھا یا کوئی اور، اسے بھی آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1751]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة