بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: باکرہ سے نکاح مستحب ہونے کابیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم رضاعت کے احکام و مسائل باب: باکرہ سے نکاح مستحب ہونے کابیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 1466 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا "، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا؟ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فقَالَ: قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ، وَإِنَّمَا قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے نکاح کیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کنواری سے یا دوہاجو (ثیبہ) سے؟ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: تم کنواریوں اور ان کی ملاعبت (باہم کھیل کود) سے (دور) کہاں رہ گئے؟ شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنی تھی اور انہوں نے کہا تھا: تم نے کنواری سے (شادی) کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3637]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3637 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا "، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا؟ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فقَالَ: قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ، وَإِنَّمَا قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے نکاح کیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کنواری سے یا دوہاجو (ثیبہ) سے؟ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: تم کنواریوں اور ان کی ملاعبت (باہم کھیل کود) سے (دور) کہاں رہ گئے؟ شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنی تھی اور انہوں نے کہا تھا: تم نے کنواری سے (شادی) کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3637]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1466 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ، أَوَ قَالَ: سَبْعَ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، تَزَوَّجْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، أَوَ قَالَ: تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، قَالَ: " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ "، أَوَ قَالَ: لِي خَيْرًا، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ: تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوربیع زہرانی نے ہمیں حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: حماد بن زید نے ہمیں عمرو بن دینار سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو بیٹیاں۔۔ یا کہا: سات بیٹیاں۔۔ چھوڑیں تو میں نے ایک ثیبہ (دوہاجو) عورت سے نکاح کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: جابر! نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کنواری ہے یا دوہاجو؟ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: کنواری کیوں نہیں، تم اس سے دل لگی کرتے، وہ تم سے دل لگی کرتی۔۔ یا فرمایا: تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو۔۔ یا سات۔۔ بیٹیاں چھوڑیں، تو میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی اصلاح کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے! یا آپ نے میرے لیے خیر اور بھلائی کی دعا فرمائی۔ اور ابوربیع کی روایت میں ہے: تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3638]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3638 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ، أَوَ قَالَ: سَبْعَ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، تَزَوَّجْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، أَوَ قَالَ: تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، قَالَ: " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ "، أَوَ قَالَ: لِي خَيْرًا، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ: تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوربیع زہرانی نے ہمیں حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: حماد بن زید نے ہمیں عمرو بن دینار سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو بیٹیاں۔۔ یا کہا: سات بیٹیاں۔۔ چھوڑیں تو میں نے ایک ثیبہ (دوہاجو) عورت سے نکاح کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: جابر! نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کنواری ہے یا دوہاجو؟ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: کنواری کیوں نہیں، تم اس سے دل لگی کرتے، وہ تم سے دل لگی کرتی۔۔ یا فرمایا: تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو۔۔ یا سات۔۔ بیٹیاں چھوڑیں، تو میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی اصلاح کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے! یا آپ نے میرے لیے خیر اور بھلائی کی دعا فرمائی۔ اور ابوربیع کی روایت میں ہے: تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3638]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1466 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ، قَالَ: أَصَبْتَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: جابر! کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟ اور آگے یہاں تک بیان کیا: ایسی عورت جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی کنگھی کرے، آپ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔ اور انہوں نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3639]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3639 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ، قَالَ: أَصَبْتَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: جابر! کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟ اور آگے یہاں تک بیان کیا: ایسی عورت جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی کنگھی کرے، آپ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔ اور انہوں نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3639]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1466 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، سَيَّارٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنْزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فقَالَ: " مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فقَالَ: " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ "، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فقَالَ: " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً، كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ "، قَالَ: وَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے۔ جب ہم واپس ہوئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تھوڑا سا تیز کیا، میرے ساتھ پیچھے سے ایک سوار آ کر ملا انہوں نے لوہے کی نوک والی چھڑی سے جو ان کے ساتھ تھی، میرے اونٹ کو کچوکا لگایا، تو وہ اتنا تیز چلنے لگا جتنا آپ نے کسی بہترین اونٹ کو (تیز چلتے ہوئے) دیکھا، آپ نے پوچھا: جابر! تمہیں کس چیز نے جلدی میں ڈال رکھا ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ نے پوچھا: باکرہ سے شادی کی ہے یا ثیبہ (دوہاجو) سے؟ انہوں نے عرض کی: ثیبہ سے۔ آپ نے فرمایا: تم نے کسی (کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی؟ کہا: جب ہم مدینہ آئے، (اس میں) داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ہم رات۔۔ یعنی عشاء۔۔ کے وقت داخل ہوں، تاکہ پراگندہ بالوں والی بال سنوار لے اور جس جس کا شوہر غائب رہا، وہ بال (وغیرہ) صاف کر لے۔ اور فرمایا: جب گھر پہنچنا تو عقل و تحمل سے کام لینا (حالت حیض میں جماع نہ کرنا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3640]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3640 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، سَيَّارٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنْزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فقَالَ: " مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فقَالَ: " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ "، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فقَالَ: " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً، كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ "، قَالَ: وَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے۔ جب ہم واپس ہوئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تھوڑا سا تیز کیا، میرے ساتھ پیچھے سے ایک سوار آ کر ملا انہوں نے لوہے کی نوک والی چھڑی سے جو ان کے ساتھ تھی، میرے اونٹ کو کچوکا لگایا، تو وہ اتنا تیز چلنے لگا جتنا آپ نے کسی بہترین اونٹ کو (تیز چلتے ہوئے) دیکھا، آپ نے پوچھا: جابر! تمہیں کس چیز نے جلدی میں ڈال رکھا ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ نے پوچھا: باکرہ سے شادی کی ہے یا ثیبہ (دوہاجو) سے؟ انہوں نے عرض کی: ثیبہ سے۔ آپ نے فرمایا: تم نے کسی (کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی؟ کہا: جب ہم مدینہ آئے، (اس میں) داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ہم رات۔۔ یعنی عشاء۔۔ کے وقت داخل ہوں، تاکہ پراگندہ بالوں والی بال سنوار لے اور جس جس کا شوہر غائب رہا، وہ بال (وغیرہ) صاف کر لے۔ اور فرمایا: جب گھر پہنچنا تو عقل و تحمل سے کام لینا (حالت حیض میں جماع نہ کرنا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3640]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1467 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ لِي: " يَا جَابِرُ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ "، قُلْتُ: أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ: " ارْكَبْ "، فَرَكِبْتُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَتَزَوَّجْتَ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فقَالَ: " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا "، فَقُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ، قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ "، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَبِيعُ جَمَلَكَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فقَالَ: " الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً، فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ: " ادْعُ لِي جَابِرًا "، فَدُعِيتُ فَقُلْتُ: الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ، فقَالَ: " خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا تھا، میرے اونٹ نے میری رفتار سست کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: جابر! میں نے عرض کی: جی۔ آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میرے لیے میرا اونٹ سست پڑ چکا ہے اور تھک گیا ہے، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ آپ (اپنی سواری سے) اترے اور اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے اسے کچوکا لگایا، پھر فرمایا: سوار ہو جاؤ۔ میں سوار ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی اونٹنی) سے (آگے بڑھنے سے) روک رہا ہوں۔ پھر آپ نے پوچھا: کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کنواری سے یا دوہاجو سے؟ میں نے عرض کی: دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: (کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی۔ میں نے عرض کی: میری (چھوٹی) بہنیں ہیں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی ڈھارس بندھائے، ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگہداشت کرے۔ آپ نے فرمایا: تم (گھر) پہنچنے والے ہو، جب پہنچ جاؤ تو احتیاط اور عقل مندی سے کام لینا۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ آپ نے وہ (اونٹ) مجھ سے ایک اوقیہ (چاندی کی قیمت) میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہنچ گئے اور میں صبح کے وقت پہنچا، مسجد میں آیا تو آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ابھی پہنچے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کرو۔ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر (آپ کے پاس) واپس آیا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ (چاندی) تول دیں، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے وزن کیا، اور ترازو کو جھکایا (اوقیہ سے زیادہ تولا)۔ کہا: اس کے بعد میں چل پڑا، جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا: جابر کو میرے پاس بلاؤ۔ مجھے بلایا گیا۔ میں نے (دل میں) کہا: اب آپ میرا اونٹ (بھی) مجھے واپس کر دیں گے۔ اور مجھے کوئی چیز اس سے زیادہ ناپسند نہ تھی (کہ میں قیمت وصول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنا اونٹ بھی واپس لے لوں)۔ آپ نے فرمایا: اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3641]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3641 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ لِي: " يَا جَابِرُ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ "، قُلْتُ: أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ: " ارْكَبْ "، فَرَكِبْتُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَتَزَوَّجْتَ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فقَالَ: " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا "، فَقُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ، قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ "، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَبِيعُ جَمَلَكَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فقَالَ: " الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً، فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ: " ادْعُ لِي جَابِرًا "، فَدُعِيتُ فَقُلْتُ: الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ، فقَالَ: " خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا تھا، میرے اونٹ نے میری رفتار سست کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: جابر! میں نے عرض کی: جی۔ آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میرے لیے میرا اونٹ سست پڑ چکا ہے اور تھک گیا ہے، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ آپ (اپنی سواری سے) اترے اور اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے اسے کچوکا لگایا، پھر فرمایا: سوار ہو جاؤ۔ میں سوار ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی اونٹنی) سے (آگے بڑھنے سے) روک رہا ہوں۔ پھر آپ نے پوچھا: کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کنواری سے یا دوہاجو سے؟ میں نے عرض کی: دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: (کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی۔ میں نے عرض کی: میری (چھوٹی) بہنیں ہیں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی ڈھارس بندھائے، ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگہداشت کرے۔ آپ نے فرمایا: تم (گھر) پہنچنے والے ہو، جب پہنچ جاؤ تو احتیاط اور عقل مندی سے کام لینا۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ آپ نے وہ (اونٹ) مجھ سے ایک اوقیہ (چاندی کی قیمت) میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہنچ گئے اور میں صبح کے وقت پہنچا، مسجد میں آیا تو آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ابھی پہنچے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کرو۔ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر (آپ کے پاس) واپس آیا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ (چاندی) تول دیں، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے وزن کیا، اور ترازو کو جھکایا (اوقیہ سے زیادہ تولا)۔ کہا: اس کے بعد میں چل پڑا، جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا: جابر کو میرے پاس بلاؤ۔ مجھے بلایا گیا۔ میں نے (دل میں) کہا: اب آپ میرا اونٹ (بھی) مجھے واپس کر دیں گے۔ اور مجھے کوئی چیز اس سے زیادہ ناپسند نہ تھی (کہ میں قیمت وصول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنا اونٹ بھی واپس لے لوں)۔ آپ نے فرمایا: اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3641]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1467 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِي ، أَبُو نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حدثنا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، قَالَ: فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ قَالَ: نَخَسَهُ أُرَاهُ، قَالَ بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعَنِي حَتَّى إِنِّي لِأَكُفُّهُ، قَالَ: فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ وَقَالَ لِي: " أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا "، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا، وَتُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا "، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ: افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اور میں ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر (سوار) تھا۔ اور وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے ساتھ تھا۔ کہا: آپ نے اسے۔۔ میرا خیال ہے، انہوں نے کہا: اپنے پاس موجود کسی چیز سے۔۔ مارا، یا کہا: کچوکا لگایا، کہا: اس کے بعد وہ لوگوں (کے اونٹوں) سے آگے نکلنے لگا، وہ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا حتیٰ کہ مجھے اس کو روکنا پڑتا تھا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف فرمائے! کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ نے (دوبارہ) پوچھا: کیا تم مجھے وہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے! کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہے۔ کہا: اور آپ نے مجھ سے (یہ بھی) پوچھا: کیا اپنے والد (کی وفات) کے بعد تم نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: دوہاجو (شوہر دیدہ) سے یا دوشیزہ سے؟ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: تم نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے؟ ابونضرہ نے کہا: یہ ایسا کلمہ تھا جسے مسلمان (محاورتاً) کہتے تھے کہ ایسے ایسے کرو، اللہ تمہارے گناہ بخش دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3642]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3642 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِي ، أَبُو نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حدثنا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، قَالَ: فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ قَالَ: نَخَسَهُ أُرَاهُ، قَالَ بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعَنِي حَتَّى إِنِّي لِأَكُفُّهُ، قَالَ: فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ وَقَالَ لِي: " أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا "، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا، وَتُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا "، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ: افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اور میں ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر (سوار) تھا۔ اور وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے ساتھ تھا۔ کہا: آپ نے اسے۔۔ میرا خیال ہے، انہوں نے کہا: اپنے پاس موجود کسی چیز سے۔۔ مارا، یا کہا: کچوکا لگایا، کہا: اس کے بعد وہ لوگوں (کے اونٹوں) سے آگے نکلنے لگا، وہ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا حتیٰ کہ مجھے اس کو روکنا پڑتا تھا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف فرمائے! کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ نے (دوبارہ) پوچھا: کیا تم مجھے وہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے! کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہے۔ کہا: اور آپ نے مجھ سے (یہ بھی) پوچھا: کیا اپنے والد (کی وفات) کے بعد تم نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: دوہاجو (شوہر دیدہ) سے یا دوشیزہ سے؟ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: تم نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے؟ ابونضرہ نے کہا: یہ ایسا کلمہ تھا جسے مسلمان (محاورتاً) کہتے تھے کہ ایسے ایسے کرو، اللہ تمہارے گناہ بخش دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3642]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة