عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا "، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا؟ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فقَالَ: قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ، وَإِنَّمَا قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کنواری سے یا دوہاجو (ثیبہ) سے؟“ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کنواریوں اور ان کی ملاعبت (باہم کھیل کود) سے (دور) کہاں رہ گئے؟“ شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنی تھی اور انہوں نے کہا تھا: ”تم نے کنواری سے (شادی) کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3637]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة