بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رضاعت کی حرمت میں مذکر کا اثر۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم رضاعت کے احکام و مسائل باب: رضاعت کی حرمت میں مذکر کا اثر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ، قَالَت: فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، " فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے ان (عروہ) کو خبر دی کہ پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد ابوقیس کے بھائی افلح آئے، وہ اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے، اور وہ ان کے رضاعی چچا (لگتے) تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو جو میں نے کیا آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں اپنے سامنے آنے کی اجازت دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3571 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ، قَالَت: فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، " فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے ان (عروہ) کو خبر دی کہ پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد ابوقیس کے بھائی افلح آئے، وہ اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے، اور وہ ان کے رضاعی چچا (لگتے) تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو جو میں نے کیا آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں اپنے سامنے آنے کی اجازت دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ: قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ أَوْ يَمِينُكِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے پاس میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس آئے، (آگے) امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا: (عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) میں نے عرض کی: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا۔ آپ نے فرمایا: تیرے دونوں ہاتھ یا تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3572 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ: قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ أَوْ يَمِينُكِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے پاس میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس آئے، (آگے) امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا: (عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) میں نے عرض کی: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا۔ آپ نے فرمایا: تیرے دونوں ہاتھ یا تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهُ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُ وَأَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ، وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ أَبَا عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَت عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا آذَنُ لِأَفْلَحَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ، قَالَت عَائِشَةُ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَنِي يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَكَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، قَالَت: فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْذَنِي لَهُ "، قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوقیس کے بھائی افلح آئے، وہ ان کے پاس (گھر کے اندر) آنے کی اجازت چاہتے تھے۔ ابوقیس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی والد تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لوں۔ مجھے ابوقیس نے تو دودھ نہیں پلایا (کہ اس کا بھائی میرا محرم بن جائے) مجھے تو ان کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ابوقیس کے بھائی افلح میرے پاس آئے تھے، وہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انہیں اجازت دوں یہاں تک کہ آپ سے اجازت لے لوں۔ (عروہ نے) کہا: حضرت (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دے دیا کرو۔ عروہ نے کہا: اسی (حکم) کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے وہ سب رشتے حرام ٹھہرا لو جنہیں تم نسب کی وجہ سے حرام ٹھہراتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3573]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3573 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهُ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُ وَأَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ، وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ أَبَا عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَت عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا آذَنُ لِأَفْلَحَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ، قَالَت عَائِشَةُ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَنِي يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَكَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، قَالَت: فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْذَنِي لَهُ "، قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوقیس کے بھائی افلح آئے، وہ ان کے پاس (گھر کے اندر) آنے کی اجازت چاہتے تھے۔ ابوقیس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی والد تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لوں۔ مجھے ابوقیس نے تو دودھ نہیں پلایا (کہ اس کا بھائی میرا محرم بن جائے) مجھے تو ان کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ابوقیس کے بھائی افلح میرے پاس آئے تھے، وہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انہیں اجازت دوں یہاں تک کہ آپ سے اجازت لے لوں۔ (عروہ نے) کہا: حضرت (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دے دیا کرو۔ عروہ نے کہا: اسی (حکم) کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے وہ سب رشتے حرام ٹھہرا لو جنہیں تم نسب کی وجہ سے حرام ٹھہراتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3573]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحدثناه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُ وَأَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَفِيهِ: فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ، وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ زَوْجَ الْمَرْأَةِ الَّتِي أَرْضَعَتْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ ابوقیس کے بھائی افلح آئے، وہ ان کے پاس گھر کے اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے۔۔۔ ان سب کی حدیث کی طرح۔۔۔ اور اس میں ہے: وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ اور ابوقیس اس عورت کے شوہر تھے جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3574]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3574 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحدثناه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُ وَأَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَفِيهِ: فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ، وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ زَوْجَ الْمَرْأَةِ الَّتِي أَرْضَعَتْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ ابوقیس کے بھائی افلح آئے، وہ ان کے پاس گھر کے اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے۔۔۔ ان سب کی حدیث کی طرح۔۔۔ اور اس میں ہے: وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ اور ابوقیس اس عورت کے شوہر تھے جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3574]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ "، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے رضاعی چچا آئے، وہ مجھ سے (گھر کے) اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کی: میرے رضاعی چچا نے میرے پاس (گھر کے اندر) آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے چچا تمہارے پاس (گھر میں) آ جائیں۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد نے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے گھر میں آ سکتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3575]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3575 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ "، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے رضاعی چچا آئے، وہ مجھ سے (گھر کے) اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کی: میرے رضاعی چچا نے میرے پاس (گھر کے اندر) آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے چچا تمہارے پاس (گھر میں) آ جائیں۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد نے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے گھر میں آ سکتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3575]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامٌ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حدثنا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد، یعنی ابن زید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند سے حدیث بیان کی کہ ابوقیس کے بھائی نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے ہاں آنے کی اجازت مانگی۔۔۔ آگے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3576]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3576 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامٌ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حدثنا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد، یعنی ابن زید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند سے حدیث بیان کی کہ ابوقیس کے بھائی نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے ہاں آنے کی اجازت مانگی۔۔۔ آگے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3576]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا أَبُو الْقُعَيْسِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا: ابوقیس نے ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3577]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3577 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا أَبُو الْقُعَيْسِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا: ابوقیس نے ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3577]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ، قَالَت: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ، فَرَدَدْتُهُ، قَالَ لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، قَالَ: " فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَوْ يَدُكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء سے روایت ہے، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، کہا: میرے رضاعی چچا ابوالجعد نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں انکار کر دیا۔ ہشام نے مجھ سے کہا: یہ ابوقیس ہی تھے۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: تم نے انہیں اجازت کیوں نہ دی؟ تمہارا دایاں ہاتھ یا تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3578]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3578 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ، قَالَت: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ، فَرَدَدْتُهُ، قَالَ لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، قَالَ: " فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَوْ يَدُكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء سے روایت ہے، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، کہا: میرے رضاعی چچا ابوالجعد نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں انکار کر دیا۔ ہشام نے مجھ سے کہا: یہ ابوقیس ہی تھے۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: تم نے انہیں اجازت کیوں نہ دی؟ تمہارا دایاں ہاتھ یا تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3578]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ. ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ لَهَا: " لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ابی حبیب نے عراک (بن مالک غفاری) سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے اسے خبر دی کہ ان کے رضاعی چچا نے، جن کا نام افلح تھا، ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے ان کے آگے پردہ کیا (انہیں روک دیا) اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: تم ان سے پردہ نہ کرو کیونکہ رضاعت سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3579]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3579 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ. ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ لَهَا: " لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ابی حبیب نے عراک (بن مالک غفاری) سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے اسے خبر دی کہ ان کے رضاعی چچا نے، جن کا نام افلح تھا، ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے ان کے آگے پردہ کیا (انہیں روک دیا) اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: تم ان سے پردہ نہ کرو کیونکہ رضاعت سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3579]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1445 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ قُعَيْسٍ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِنِّي عَمُّكِ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فقَالَ: " لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حکم نے عراک بن مالک سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قیس کے بیٹے افلح نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، انہوں نے پیغام بھیجا: میں آپ کا چچا ہوں، میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے، اس پر بھی میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا: وہ تمہارے سامنے آ سکتا ہے وہ تمہارا چچا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3580]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3580 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ قُعَيْسٍ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِنِّي عَمُّكِ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فقَالَ: " لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حکم نے عراک بن مالک سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قیس کے بیٹے افلح نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، انہوں نے پیغام بھیجا: میں آپ کا چچا ہوں، میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے، اس پر بھی میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا: وہ تمہارے سامنے آ سکتا ہے وہ تمہارا چچا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3580]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة