عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ قُعَيْسٍ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِنِّي عَمُّكِ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فقَالَ: " لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حکم نے عراک بن مالک سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قیس کے بیٹے افلح نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، انہوں نے پیغام بھیجا: میں آپ کا چچا ہوں، میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے، اس پر بھی میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا: ”وہ تمہارے سامنے آ سکتا ہے وہ تمہارا چچا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3580]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة