قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ. ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ لَهَا: " لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ابی حبیب نے عراک (بن مالک غفاری) سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے اسے خبر دی کہ ان کے رضاعی چچا نے، جن کا نام افلح تھا، ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے ان کے آگے پردہ کیا (انہیں روک دیا) اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”تم ان سے پردہ نہ کرو کیونکہ رضاعت سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3579]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة