بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1365 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عَنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ "، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، فقَالَ: " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً "، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ، مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: " ادْعُوهُ بِهَا "، قَالَ: فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا "، قَالَ: وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: " نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا "، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فقَالَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ، فَلْيَجِئْ بِهِ "، قَالَ: وَبَسَطَ نِطَعًا، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی۔ کہا: ہم نے اس کے قریب ہی صبح کی نماز ادا کی، اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے، میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پچھلی طرف سوار تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے (اس کی طرف جانے والے) تنگ راستوں میں سواری کو تیز چلایا، میرا گھٹنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران کو چھو رہا تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران سے تہبند ہٹ گیا اور میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے۔ خیبر اُجڑ گیا۔ بے شک ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔ کہا: لوگ اپنے کاموں کے لیے نکل چکے تھے۔ انہوں نے (یہ منظر دیکھا تو) کہا: اللہ کی قسم یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ عبدالعزیز نے کہا: (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ) ہمارے بعض ساتھیوں نے بتایا: (ان میں سے بعض نے یہ بھی کہا:) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور لشکر ہے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہم نے خیبر کو بزور قوت حاصل کیا۔ قیدیوں کو اکٹھا کر لیا گیا تو حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عطا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو۔ تو انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ اس پر ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی عنایت کر دی ہے جو بنو قریظہ اور بنو نضیر کی شہزادی ہے؟ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ اور کسی کے شایان شان نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اس (لڑکی) سمیت بلا لاؤ۔ وہ اسے لے کر حاضر ہوئے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ کو دیکھا تو فرمایا: قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور لونڈی لے لو۔ (آگے آئے گا کہ اپنی مرضی کی اور لونڈی کے علاوہ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی طرف سے اسے مزید کنیزیں بھی عطا فرمائیں، حدیث 3500) کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کیا اور ان سے شادی کر لی۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ایک اور شاگرد) ثابت نے ان سے کہا: ابوحمزہ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کیا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: خود ان کو (انہیں دیا تھا،) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کیا (انہیں اپنی جان کا مالک بنایا) اور (اس کے عوض) ان سے نکاح کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (واپسی پر ابھی) راستے میں تھے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے تیار کیا اور رات کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دلہے کی حیثیت سے صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے ساتھیوں سے) فرمایا: جس کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہو تو وہ اسے لے آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان بچھوا دیا۔ کہا: تو کوئی آدمی پنیر لے کر آنے لگا، کوئی کھجور لے کر آنے لگا اور کوئی گھی لے کر آنے لگا۔ پھر لوگوں نے (کھجور، پنیر اور گھی کو) اچھی طرح ملا کر حلوہ تیار کیا۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3497]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3497 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عَنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ "، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، فقَالَ: " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً "، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ، مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: " ادْعُوهُ بِهَا "، قَالَ: فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا "، قَالَ: وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: " نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا "، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فقَالَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ، فَلْيَجِئْ بِهِ "، قَالَ: وَبَسَطَ نِطَعًا، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی۔ کہا: ہم نے اس کے قریب ہی صبح کی نماز ادا کی، اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے، میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پچھلی طرف سوار تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے (اس کی طرف جانے والے) تنگ راستوں میں سواری کو تیز چلایا، میرا گھٹنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران کو چھو رہا تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران سے تہبند ہٹ گیا اور میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ران کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے۔ خیبر اُجڑ گیا۔ بے شک ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔ کہا: لوگ اپنے کاموں کے لیے نکل چکے تھے۔ انہوں نے (یہ منظر دیکھا تو) کہا: اللہ کی قسم یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ عبدالعزیز نے کہا: (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ) ہمارے بعض ساتھیوں نے بتایا: (ان میں سے بعض نے یہ بھی کہا:) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور لشکر ہے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہم نے خیبر کو بزور قوت حاصل کیا۔ قیدیوں کو اکٹھا کر لیا گیا تو حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عطا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو۔ تو انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ اس پر ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی عنایت کر دی ہے جو بنو قریظہ اور بنو نضیر کی شہزادی ہے؟ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ اور کسی کے شایان شان نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اس (لڑکی) سمیت بلا لاؤ۔ وہ اسے لے کر حاضر ہوئے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ کو دیکھا تو فرمایا: قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور لونڈی لے لو۔ (آگے آئے گا کہ اپنی مرضی کی اور لونڈی کے علاوہ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی طرف سے اسے مزید کنیزیں بھی عطا فرمائیں، حدیث 3500) کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کیا اور ان سے شادی کر لی۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ایک اور شاگرد) ثابت نے ان سے کہا: ابوحمزہ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کیا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: خود ان کو (انہیں دیا تھا،) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کیا (انہیں اپنی جان کا مالک بنایا) اور (اس کے عوض) ان سے نکاح کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (واپسی پر ابھی) راستے میں تھے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے تیار کیا اور رات کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دلہے کی حیثیت سے صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے ساتھیوں سے) فرمایا: جس کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہو تو وہ اسے لے آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان بچھوا دیا۔ کہا: تو کوئی آدمی پنیر لے کر آنے لگا، کوئی کھجور لے کر آنے لگا اور کوئی گھی لے کر آنے لگا۔ پھر لوگوں نے (کھجور، پنیر اور گھی کو) اچھی طرح ملا کر حلوہ تیار کیا۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3497]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1365 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ ، أَنَسٍ ، قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسٍ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانَ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جميعا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا "، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ: تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ، وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد، یعنی ابن زید نے ثابت اور عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ حماد نے ثابت اور شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ اسی طرح ابوعوانہ نے قتادہ اور عبدالعزیز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعوانہ (ہی) نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور اسی طرح یونس بن عبید نے شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور ان سب نے (کہا: انہوں نے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا۔ معاذ کی اپنے والد (ہشام) سے روایت کردہ حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ان کی آزادی، ان کو مہر میں دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3498]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3498 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ ، أَنَسٍ ، قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسٍ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانَ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جميعا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا "، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ: تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ، وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد، یعنی ابن زید نے ثابت اور عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ حماد نے ثابت اور شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ اسی طرح ابوعوانہ نے قتادہ اور عبدالعزیز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعوانہ (ہی) نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔ معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور اسی طرح یونس بن عبید نے شعیب بن حبحاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور ان سب نے (کہا: انہوں نے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا۔ معاذ کی اپنے والد (ہشام) سے روایت کردہ حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ان کی آزادی، ان کو مہر میں دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3498]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 154 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي " الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، لَهُ أَجْرَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں، جو اپنی لونڈی کو آزاد کرتا ہے، پھر اس سے شادی کرتا ہے، فرمایا: اس کے لیے دو اجر ہیں۔ (آزاد کرنے کا اجر اور اس کے بعد شادی کے ذریعے اسے عزت کا مقام دینے کا اجر)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3499]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3499 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي " الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، لَهُ أَجْرَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں، جو اپنی لونڈی کو آزاد کرتا ہے، پھر اس سے شادی کرتا ہے، فرمایا: اس کے لیے دو اجر ہیں۔ (آزاد کرنے کا اجر اور اس کے بعد شادی کے ذریعے اسے عزت کا مقام دینے کا اجر)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3499]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1365 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، أَنَسٌ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَفَّانُ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حدثنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ، وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ، وَمَكَاتِلِهِمْ، وَمُرُورِهِمْ، فقَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ "، قَالَ: وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ، وَالْأَقِطَ، وَالسَّمْنَ، فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ، فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَشَبِعَ النَّاسُ، قَالَ: وَقَالَ النَّاسُ: لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ؟ قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا، فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعَنْا، قَالَ: فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ، وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ، فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ. (حديث موقوف) قَالَ أَنَسٌ : وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا، فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ؟ "، فَيَقُولُونَ: بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟: فَيَقُولُ: بِخَيْرٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار تھا، اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا۔ کہا: ہم خیبر والوں کے پاس اس وقت پہنچے جب سورج طلوع ہو رہا تھا، اور وہ لوگ اپنے مویشی لے کر (کھیتوں کی طرف) نکل رہے تھے اور اپنے کلہاڑے، ٹوکرے اور کدالیں ساتھ لیے ہوئے تھے۔ (جب انہوں نے ہمیں دیکھا) تو کہنے لگے: "محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کا لشکر آ گیا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (یہ دیکھ کر) فرمایا: **"اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا! ہم جب کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔"** پھر اللہ عزوجل نے انہیں شکست دی۔ (مالِ غنیمت میں) حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی (حضرت صفیہ) آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سات جانوں کے بدلے خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں (حضرت) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا تاکہ وہ انہیں (دلہن کی طرح) سنواریں اور تیار کریں۔ راوی کا خیال ہے کہ حضرت انس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے (عدت کے) دن ام سلیم کے گھر میں ہی گزاریں۔ وہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا۔ زمین میں چھوٹے گڑھے کھودے گئے اور چمڑے کے دسترخوان لائے گئے جن میں یہ چیزیں (کھجور، پنیر اور گھی) ڈال دی گئیں اور لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ لوگوں نے آپس میں کہا: "ہمیں نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے یا انہیں لونڈی (ام ولد) کے طور پر رکھا ہے؟" پھر انہوں نے کہا: "اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ ہوں گی، اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ لونڈی ہوں گی۔" جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو انہیں پردے میں بٹھایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھ گئیں، تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا ہے۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی تیز کی اور ہم نے بھی تیز کی۔ کہا: اونٹنی عضباء ٹھوکر کھا کر گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پالان سے) نکل گئے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی نکل کر گر گئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو پردے میں کیا، عورتیں اوپر سے جھانک رہی تھیں، کہنے لگیں: اللہ یہودی عورت کو دور کرے۔ (ثابت نے) کہا: میں نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گر پڑے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں اللہ کی قسم! آپ گر پڑے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں بھی شرکت کی تھی۔ آپ نے لوگوں کو پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا تھا، آپ مجھے بھتیجے تھے میں لوگوں کو (کھانے کے لیے) بلاتا تھا۔ جب آپ فارغ ہوئے، تو کھڑے ہو گئے اور میں نے بھی آپ کی پیروی کی، پیچھے دو آدمی رہ گئے، باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگائے رکھا۔ وہ دونوں نہ نکلے۔ آپ نے (چلتے ہوئے) اپنی ازواج مطہرات کے پاس جانا شروع کیا۔ آپ ان میں سے ہر ایک کو سلام کرتے، (فرماتے) تم پر سلامتی ہو، گھر والو! آپ کیسے ہو؟ وہ جواب دیتے: اللہ کے رسول! خیریت سے ہیں۔ آپ نے اپنے اہل (نئی اہلیہ) کو کیسا پایا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دیتے: خیر و (عافیت) کے ساتھ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فارغ ہوئے تو واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا، جب آپ دروازے پر پہنچے تو آپ نے ان دو آدمیوں کو دیکھا (کہ) باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگا رکھا ہے، جب ان دونوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس آ رہے ہیں تو وہ دونوں اٹھے اور چلے گئے۔ اللہ کی قسم! (اب) مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا یا آپ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں۔ آپ واپس آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ پھر آپ نے اپنا پاؤں دروازے کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں مت داخل ہو الا یہ کہ تمہیں (اس کی) اجازت دی جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3500]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3500 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، أَنَسٌ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَفَّانُ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حدثنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ، وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ، وَمَكَاتِلِهِمْ، وَمُرُورِهِمْ، فقَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ "، قَالَ: وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ، وَالْأَقِطَ، وَالسَّمْنَ، فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ، فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَشَبِعَ النَّاسُ، قَالَ: وَقَالَ النَّاسُ: لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ؟ قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا، فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعَنْا، قَالَ: فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ، وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ، فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ. (حديث موقوف) قَالَ أَنَسٌ : وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا، فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ؟ "، فَيَقُولُونَ: بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟: فَيَقُولُ: بِخَيْرٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار تھا، اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا۔ کہا: ہم خیبر والوں کے پاس اس وقت پہنچے جب سورج طلوع ہو رہا تھا، اور وہ لوگ اپنے مویشی لے کر (کھیتوں کی طرف) نکل رہے تھے اور اپنے کلہاڑے، ٹوکرے اور کدالیں ساتھ لیے ہوئے تھے۔ (جب انہوں نے ہمیں دیکھا) تو کہنے لگے: "محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کا لشکر آ گیا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (یہ دیکھ کر) فرمایا: **"اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا! ہم جب کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔"** پھر اللہ عزوجل نے انہیں شکست دی۔ (مالِ غنیمت میں) حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی (حضرت صفیہ) آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سات جانوں کے بدلے خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں (حضرت) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا تاکہ وہ انہیں (دلہن کی طرح) سنواریں اور تیار کریں۔ راوی کا خیال ہے کہ حضرت انس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے (عدت کے) دن ام سلیم کے گھر میں ہی گزاریں۔ وہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا۔ زمین میں چھوٹے گڑھے کھودے گئے اور چمڑے کے دسترخوان لائے گئے جن میں یہ چیزیں (کھجور، پنیر اور گھی) ڈال دی گئیں اور لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ لوگوں نے آپس میں کہا: "ہمیں نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے یا انہیں لونڈی (ام ولد) کے طور پر رکھا ہے؟" پھر انہوں نے کہا: "اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ ہوں گی، اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ لونڈی ہوں گی۔" جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو انہیں پردے میں بٹھایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھ گئیں، تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا ہے۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی تیز کی اور ہم نے بھی تیز کی۔ کہا: اونٹنی عضباء ٹھوکر کھا کر گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پالان سے) نکل گئے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی نکل کر گر گئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو پردے میں کیا، عورتیں اوپر سے جھانک رہی تھیں، کہنے لگیں: اللہ یہودی عورت کو دور کرے۔ (ثابت نے) کہا: میں نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گر پڑے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں اللہ کی قسم! آپ گر پڑے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں بھی شرکت کی تھی۔ آپ نے لوگوں کو پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا تھا، آپ مجھے بھتیجے تھے میں لوگوں کو (کھانے کے لیے) بلاتا تھا۔ جب آپ فارغ ہوئے، تو کھڑے ہو گئے اور میں نے بھی آپ کی پیروی کی، پیچھے دو آدمی رہ گئے، باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگائے رکھا۔ وہ دونوں نہ نکلے۔ آپ نے (چلتے ہوئے) اپنی ازواج مطہرات کے پاس جانا شروع کیا۔ آپ ان میں سے ہر ایک کو سلام کرتے، (فرماتے) تم پر سلامتی ہو، گھر والو! آپ کیسے ہو؟ وہ جواب دیتے: اللہ کے رسول! خیریت سے ہیں۔ آپ نے اپنے اہل (نئی اہلیہ) کو کیسا پایا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دیتے: خیر و (عافیت) کے ساتھ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فارغ ہوئے تو واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا، جب آپ دروازے پر پہنچے تو آپ نے ان دو آدمیوں کو دیکھا (کہ) باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگا رکھا ہے، جب ان دونوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس آ رہے ہیں تو وہ دونوں اٹھے اور چلے گئے۔ اللہ کی قسم! (اب) مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا یا آپ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں۔ آپ واپس آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ پھر آپ نے اپنا پاؤں دروازے کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں مت داخل ہو الا یہ کہ تمہیں (اس کی) اجازت دی جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3500]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1365 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حدثنا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، حدثنا أَنَسٌ ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا، قَالَ: " فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ، فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فقَالَ: أَصْلِحِيهَا "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَح، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَأْتِنَا بِهِ "، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ: فقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهَا قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعَنْا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ، قَالَ: صَفِيَّةُ خَلْفَهُ، قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ، قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَتَرَهَا، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فقَالَ: " لَمْ نُضَرَّ "، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئیں، (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دحیہ رضی اللہ عنہ کو اپنے حصے کی ایک کنیز لینے کی اجازت دے کر غیر رسمی طور پر تقسیم کا آغاز فرما دیا تھا۔) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے قیدیوں میں ان جیسی عورت نہیں دیکھی۔ تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، اور ان کے بدلے میں جو انہوں نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا، پھر آپ نے اسے میری والدہ کے سپرد کیا اور فرمایا: اسے بنا سنوار دو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے نکلے حتیٰ کہ جب آپ نے اسے پشت کی طرف کر لیا، (خیبر پیچھے رہ گیا) تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، پھر ان (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے خیمہ لگوایا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زاد راہ سے زائد کچھ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے۔ کہا: اس پر کوئی آدمی زائد کھجوریں لے کر آنے لگا اور (کوئی) زائد ستو، حتیٰ کہ لوگوں نے ان چیزوں سے ایک ڈھیر مخلوط کھانے (حیس) کا بنا لیا، پھر وہ اس حیس میں سے تناول کرنے لگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے قریب تھے پانی پینے لگے۔ کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تھا ان (صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ۔ کہا: اس کے بعد ہم چل پڑے، جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں تو ہم شدت شوق سے اس کی طرف لپک پڑے، ہم نے اپنی سواریاں اٹھا دیں (تیز کر دیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اپنی سواری اٹھا دی۔ کہا: صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا، کہا: (اچانک) رسول اللہ کی سواری کو ٹھوکر لگی تو آپ زمین پر آ رہے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی زمین پر آ رہیں، کہا: لوگوں میں سے کوئی بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ان کی طرف، کہا: حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے آگے پردہ کیا، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پھر ہم مدینہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ کی ازواج کی بانڈیاں باہر نکل آئیں، وہ ایک دوسری کو وہ (صفیہ رضی اللہ عنہا) دکھا رہی تھیں، اور ان کے گرنے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3501 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حدثنا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، حدثنا أَنَسٌ ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا، قَالَ: " فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ، فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فقَالَ: أَصْلِحِيهَا "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَح، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَأْتِنَا بِهِ "، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ: فقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهَا قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعَنْا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ، قَالَ: صَفِيَّةُ خَلْفَهُ، قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ، قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَتَرَهَا، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فقَالَ: " لَمْ نُضَرَّ "، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئیں، (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دحیہ رضی اللہ عنہ کو اپنے حصے کی ایک کنیز لینے کی اجازت دے کر غیر رسمی طور پر تقسیم کا آغاز فرما دیا تھا۔) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے قیدیوں میں ان جیسی عورت نہیں دیکھی۔ تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، اور ان کے بدلے میں جو انہوں نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا، پھر آپ نے اسے میری والدہ کے سپرد کیا اور فرمایا: اسے بنا سنوار دو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے نکلے حتیٰ کہ جب آپ نے اسے پشت کی طرف کر لیا، (خیبر پیچھے رہ گیا) تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، پھر ان (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے خیمہ لگوایا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زاد راہ سے زائد کچھ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے۔ کہا: اس پر کوئی آدمی زائد کھجوریں لے کر آنے لگا اور (کوئی) زائد ستو، حتیٰ کہ لوگوں نے ان چیزوں سے ایک ڈھیر مخلوط کھانے (حیس) کا بنا لیا، پھر وہ اس حیس میں سے تناول کرنے لگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے قریب تھے پانی پینے لگے۔ کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تھا ان (صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ۔ کہا: اس کے بعد ہم چل پڑے، جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں تو ہم شدت شوق سے اس کی طرف لپک پڑے، ہم نے اپنی سواریاں اٹھا دیں (تیز کر دیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اپنی سواری اٹھا دی۔ کہا: صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا، کہا: (اچانک) رسول اللہ کی سواری کو ٹھوکر لگی تو آپ زمین پر آ رہے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی زمین پر آ رہیں، کہا: لوگوں میں سے کوئی بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ان کی طرف، کہا: حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے آگے پردہ کیا، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پھر ہم مدینہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ کی ازواج کی بانڈیاں باہر نکل آئیں، وہ ایک دوسری کو وہ (صفیہ رضی اللہ عنہا) دکھا رہی تھیں، اور ان کے گرنے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة