بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3501 — باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔ حدیث 3501
حدیث نمبر: 3501 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حدثنا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، حدثنا أَنَسٌ ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا، قَالَ: " فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ، فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فقَالَ: أَصْلِحِيهَا "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَح، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَأْتِنَا بِهِ "، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ: فقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهَا قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعَنْا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ، قَالَ: صَفِيَّةُ خَلْفَهُ، قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ، قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَتَرَهَا، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فقَالَ: " لَمْ نُضَرَّ "، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئیں، (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دحیہ رضی اللہ عنہ کو اپنے حصے کی ایک کنیز لینے کی اجازت دے کر غیر رسمی طور پر تقسیم کا آغاز فرما دیا تھا۔) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے قیدیوں میں ان جیسی عورت نہیں دیکھی۔ تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، اور ان کے بدلے میں جو انہوں نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا، پھر آپ نے اسے میری والدہ کے سپرد کیا اور فرمایا: اسے بنا سنوار دو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے نکلے حتیٰ کہ جب آپ نے اسے پشت کی طرف کر لیا، (خیبر پیچھے رہ گیا) تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، پھر ان (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے خیمہ لگوایا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زاد راہ سے زائد کچھ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے۔ کہا: اس پر کوئی آدمی زائد کھجوریں لے کر آنے لگا اور (کوئی) زائد ستو، حتیٰ کہ لوگوں نے ان چیزوں سے ایک ڈھیر مخلوط کھانے (حیس) کا بنا لیا، پھر وہ اس حیس میں سے تناول کرنے لگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے قریب تھے پانی پینے لگے۔ کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تھا ان (صفیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ۔ کہا: اس کے بعد ہم چل پڑے، جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں تو ہم شدت شوق سے اس کی طرف لپک پڑے، ہم نے اپنی سواریاں اٹھا دیں (تیز کر دیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اپنی سواری اٹھا دی۔ کہا: صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا، کہا: (اچانک) رسول اللہ کی سواری کو ٹھوکر لگی تو آپ زمین پر آ رہے اور وہ (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا) بھی زمین پر آ رہیں، کہا: لوگوں میں سے کوئی بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ان کی طرف، کہا: حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے آگے پردہ کیا، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پھر ہم مدینہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ کی ازواج کی بانڈیاں باہر نکل آئیں، وہ ایک دوسری کو وہ (صفیہ رضی اللہ عنہا) دکھا رہی تھیں، اور ان کے گرنے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3500) باب پر واپس اگلی حدیث (3502) →