بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1374 صحیح مسلم
حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، أَبِي ، وُهَيْبٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فقَالَ النَّاسُ: وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ، مَا أَدْرِي كَيْفَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا "، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ، الشَّكُّ مِنْ: حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے مہری کے مولیٰ ابوسعید سے حدیث بیان کی کہ انہیں مدینہ میں بدحالی اور سختی نے آ لیا، وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: میں کثیر العیال ہوں اور ہمیں تنگدستی نے آ لیا ہے، میرا ارادہ ہے کہ میں اپنے افراد خانہ کو کسی سرسبز و شاداب علاقے کی طرف منتقل کر دوں۔ تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا مت کرنا، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (سفر پر) نکلے۔ میرا خیال ہے انہوں نے کہا: حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا، تو لوگوں نے کہا: ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہرے ہوئے، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے (اکیلے) ہیں، ہم انہیں محفوظ نہیں سمجھتے، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس طرح فرمایا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں۔ یا (فرمایا:) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا یا (فرمایا:) اگر تم چاہو۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا: میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم دوں، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا، اور اسے حرم بنایا، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے، اس میں لڑائی کے لیے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا (کسی اور غرض سے) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں (مزید عطا) کر دے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ تم اس میں واپس آجاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کوچ کرو۔ تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ یہ شک حماد کی طرف سے ہے۔ مدینہ میں داخل ہو کر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انہیں مشتعل نہیں کر رہی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3336]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3336 صحیح مسلم
حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، أَبِي ، وُهَيْبٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فقَالَ النَّاسُ: وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ، مَا أَدْرِي كَيْفَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا "، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ، الشَّكُّ مِنْ: حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے مہری کے مولیٰ ابوسعید سے حدیث بیان کی کہ انہیں مدینہ میں بدحالی اور سختی نے آ لیا، وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: میں کثیر العیال ہوں اور ہمیں تنگدستی نے آ لیا ہے، میرا ارادہ ہے کہ میں اپنے افراد خانہ کو کسی سرسبز و شاداب علاقے کی طرف منتقل کر دوں۔ تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا مت کرنا، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (سفر پر) نکلے۔ میرا خیال ہے انہوں نے کہا: حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا، تو لوگوں نے کہا: ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہرے ہوئے، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے (اکیلے) ہیں، ہم انہیں محفوظ نہیں سمجھتے، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس طرح فرمایا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں۔ یا (فرمایا:) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا یا (فرمایا:) اگر تم چاہو۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا: میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم دوں، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا، اور اسے حرم بنایا، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے، اس میں لڑائی کے لیے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا (کسی اور غرض سے) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں (مزید عطا) کر دے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ تم اس میں واپس آجاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کوچ کرو۔ تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ یہ شک حماد کی طرف سے ہے۔ مدینہ میں داخل ہو کر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انہیں مشتعل نہیں کر رہی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3336]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1374 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مبارک سے روایت ہے، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں (مزید) عطا فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3337]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3337 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مبارک سے روایت ہے، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں (مزید) عطا فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3337]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1374 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان اور حرب، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3338]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3338 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان اور حرب، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3338]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1374 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام، ابوسعید سے روایت کی، وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں (یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا) آئے اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ (مہنگائی) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آسکتا، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: تیری خرابی ہو، میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3339]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3339 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام، ابوسعید سے روایت کی، وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں (یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا) آئے اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ (مہنگائی) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آسکتا، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: تیری خرابی ہو، میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3339]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1374 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبِي أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ "، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انہیں اپنے والد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: میں مدینہ کی دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ کہا: پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے، اور ابوبکر نے کہا: ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے، پھر اسے آزاد کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3340 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبِي أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ "، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انہیں اپنے والد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: میں مدینہ کی دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ کہا: پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے، اور ابوبکر نے کہا: ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے، پھر اسے آزاد کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1375 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: بلاشبہ یہ حرم ہے، امن والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3341 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: بلاشبہ یہ حرم ہے، امن والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1376 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں (ہجرت کر کے) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی: اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لیے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3342 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں (ہجرت کر کے) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی: اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لیے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1376 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3343 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1377 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: جس نے اس (مدینہ) کی تنگدستی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی ہوں گا یا گواہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3344 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: جس نے اس (مدینہ) کی تنگدستی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی ہوں گا یا گواہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1377 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، يُحَنَّسَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سے روایت کی، انہوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی، انہوں نے انہیں (قطن کو) خبر دی کہ وہ فتنہ (واقعہ حرہ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی: ابوعبدالرحمان! ہمارے لیے گزر اوقات مشکل ہو گئی ہے، لہٰذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: (یہیں مدینہ میں) بیٹھی رہو، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن میں اس کے لیے گواہ ہوں گا یا سفارشی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3345 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، يُحَنَّسَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سے روایت کی، انہوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی، انہوں نے انہیں (قطن کو) خبر دی کہ وہ فتنہ (واقعہ حرہ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی: ابوعبدالرحمان! ہمارے لیے گزر اوقات مشکل ہو گئی ہے، لہٰذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: (یہیں مدینہ میں) بیٹھی رہو، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن میں اس کے لیے گواہ ہوں گا یا سفارشی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة