يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، يُحَنَّسَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سے روایت کی، انہوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی، انہوں نے انہیں (قطن کو) خبر دی کہ وہ فتنہ (واقعہ حرہ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی: ابوعبدالرحمان! ہمارے لیے گزر اوقات مشکل ہو گئی ہے، لہٰذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: (یہیں مدینہ میں) بیٹھی رہو، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن میں اس کے لیے گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة