أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں (ہجرت کر کے) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی: ”اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لیے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة