بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قربانی کے دن کنکریاں مارنے، پھر قربانی کرنے، پھر سر منڈانے، اور دائیں جانب سے سر منڈانے کی ابتداء کرنا سنت ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: قربانی کے دن کنکریاں مارنے، پھر قربانی کرنے، پھر سر منڈانے، اور دائیں جانب سے سر منڈانے کی ابتداء کرنا سنت ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1305 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى، فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ: " خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ تشریف لائے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قربانی کی، پھر بال مونڈنے والے سے فرمایا: پکڑو۔ اور آپ نے اپنے (سر کی) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک) لوگوں کو دینے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3152]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3152 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى، فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ: " خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ تشریف لائے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قربانی کی، پھر بال مونڈنے والے سے فرمایا: پکڑو۔ اور آپ نے اپنے (سر کی) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک) لوگوں کو دینے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3152]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1305 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ: " هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ "، قَالَ: " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ "، وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: " فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ "، ثُمَّ قَالَ: " بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ "، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابوکریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی لیکن ابوبکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجام سے کہا: یہ لو۔ اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اپنی دائیں جانب اشارہ کیا (کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو) اور اپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہوئے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر حجام کو اپنی بائیں جانب کی طرف اشارہ کیا (کہ اب بائیں جانب سے حجامت بناؤ) حجام نے آپ کا سر مونڈ دیا تو آپ نے (اپنے وہ موئے مبارک) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطا فرما دیے۔ اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہا: (حجام نے) دائیں جانب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر آپ نے اپنی بائیں جانب (حجامت بنانے کا) اشارہ فرمایا۔ حجام نے اس طرف بھی وہی کیا (بال مونڈ دیے) پھر آپ نے فرمایا: کہاں ہیں ابوطلحہ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبارک حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے حوالے فرما دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3153]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3153 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ: " هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ "، قَالَ: " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ "، وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: " فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ "، ثُمَّ قَالَ: " بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ "، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابوکریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی لیکن ابوبکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجام سے کہا: یہ لو۔ اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اپنی دائیں جانب اشارہ کیا (کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو) اور اپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہوئے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر حجام کو اپنی بائیں جانب کی طرف اشارہ کیا (کہ اب بائیں جانب سے حجامت بناؤ) حجام نے آپ کا سر مونڈ دیا تو آپ نے (اپنے وہ موئے مبارک) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطا فرما دیے۔ اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہا: (حجام نے) دائیں جانب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر آپ نے اپنی بائیں جانب (حجامت بنانے کا) اشارہ فرمایا۔ حجام نے اس طرف بھی وہی کیا (بال مونڈ دیے) پھر آپ نے فرمایا: کہاں ہیں ابوطلحہ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبارک حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے حوالے فرما دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3153]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1305 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ "، فَقَالَ: " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ "، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام (بن حسان) نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں نحر کیا اور حجام (آپ کے لیے) بیٹھا ہوا تھا آپ نے (اسے) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے (بال اتارنے کا) اشارہ کیا تو اس نے آپ (کے سر) کی دائیں طرف کے بال اتار دیے۔ آپ نے وہ بال ان لوگوں میں بانٹ دیے جو آپ کے قریب موجود تھے۔ پھر فرمایا: دوسری طرف کے بال (بھی) اتار دو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ابوطلحہ کہاں ہیں؟ اور آپ نے وہ (موئے مبارک) انہیں دے دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3154]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3154 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ "، فَقَالَ: " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ "، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام (بن حسان) نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں نحر کیا اور حجام (آپ کے لیے) بیٹھا ہوا تھا آپ نے (اسے) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے (بال اتارنے کا) اشارہ کیا تو اس نے آپ (کے سر) کی دائیں طرف کے بال اتار دیے۔ آپ نے وہ بال ان لوگوں میں بانٹ دیے جو آپ کے قریب موجود تھے۔ پھر فرمایا: دوسری طرف کے بال (بھی) اتار دو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ابوطلحہ کہاں ہیں؟ اور آپ نے وہ (موئے مبارک) انہیں دے دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3154]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1305 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ، وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ، فَقَالَ: احْلِقْ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی (کہا) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ محمد بن سیرین سے خبر دے رہے تھے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی (کے اونٹوں) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جانب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ (بال) ان کے حوالے کر دیے۔ پھر آپ نے (سر کی) بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا: (اس کے) بال اتار دو۔ اس نے وہ بال اتار دیے تو آپ نے وہ بھی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے اور فرمایا: ان (بائیں طرف والے بالوں) کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3155]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3155 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ، وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ، فَقَالَ: احْلِقْ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی (کہا) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ محمد بن سیرین سے خبر دے رہے تھے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی (کے اونٹوں) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جانب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ (بال) ان کے حوالے کر دیے۔ پھر آپ نے (سر کی) بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا: (اس کے) بال اتار دو۔ اس نے وہ بال اتار دیے تو آپ نے وہ بھی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے اور فرمایا: ان (بائیں طرف والے بالوں) کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3155]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة