ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ، وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ، فَقَالَ: احْلِقْ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی (کہا) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ محمد بن سیرین سے خبر دے رہے تھے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی (کے اونٹوں) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جانب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ (بال) ان کے حوالے کر دیے۔ پھر آپ نے (سر کی) بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا: ”(اس کے) بال اتار دو۔“ اس نے وہ بال اتار دیے تو آپ نے وہ بھی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے اور فرمایا: ”ان (بائیں طرف والے بالوں) کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3155]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة