مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ "، فَقَالَ: " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ "، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام (بن حسان) نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں نحر کیا اور حجام (آپ کے لیے) بیٹھا ہوا تھا آپ نے (اسے) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے (بال اتارنے کا) اشارہ کیا تو اس نے آپ (کے سر) کی دائیں طرف کے بال اتار دیے۔ آپ نے وہ بال ان لوگوں میں بانٹ دیے جو آپ کے قریب موجود تھے۔ پھر فرمایا: ”دوسری طرف کے بال (بھی) اتار دو۔“ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”ابوطلحہ کہاں ہیں؟“ اور آپ نے وہ (موئے مبارک) انہیں دے دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3154]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة