بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1229 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2984]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2984 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2984]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1229 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ؟ بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد بن مخلد نے مالک سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟ (آگے) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2985]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2985 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ؟ بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد بن مخلد نے مالک سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟ (آگے) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2985]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1229 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2986]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2986 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2986]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1229 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ: " فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! (آگے) مالک کی حدیث کے مانند ہے (البتہ الفاظ یوں ہیں): میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2987]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2987 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ: " فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! (آگے) مالک کی حدیث کے مانند ہے (البتہ الفاظ یوں ہیں): میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2987]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1229 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةُ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ (عمرہ کرنے کے بعد) احرام کھول دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: آپ کو احرام کھولنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے سر (کے بالوں کو) چپکا چکا ہوں۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2988]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2988 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةُ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ (عمرہ کرنے کے بعد) احرام کھول دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: آپ کو احرام کھولنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے سر (کے بالوں کو) چپکا چکا ہوں۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2988]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة