مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2986]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة