يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2984]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة