يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، قَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ "، وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ: وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرام باندھ چکے ہیں۔ خلف نے "جبکہ آپ احرام باندھ چکے ہیں" کے الفاظ نہیں کہے۔ لیکن انہوں نے یہ کہا کہ وہ آپ کے احرام کی خوشبو تھی (جو آپ نے احرام باندھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2832]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة