بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صوم دھر یہاں تک کہ عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم روزوں کے احکام و مسائل باب: صوم دھر یہاں تک کہ عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟ "، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ "، قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ (عبداللہ) کہتا ہے: میں جب تک زندہ ہوں (مسلسل) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کام نہیں کر سکو گے، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی (کا اجر) دس گنا ہے۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو۔ کہا: میں نے عرض کی: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔ یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ (طریقہ) ہے۔ کہا: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے افضل کوئی صورت نہیں۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ بات مجھے اپنے اہل و عیال سے بھی زیادہ عزیز ہے کہ میں (مہینے میں) تین دنوں کی بات تسلیم کر لیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2729]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2729 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟ "، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ "، قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ (عبداللہ) کہتا ہے: میں جب تک زندہ ہوں (مسلسل) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کام نہیں کر سکو گے، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی (کا اجر) دس گنا ہے۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو۔ کہا: میں نے عرض کی: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔ یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ (طریقہ) ہے۔ کہا: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے افضل کوئی صورت نہیں۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ بات مجھے اپنے اہل و عیال سے بھی زیادہ عزیز ہے کہ میں (مہینے میں) تین دنوں کی بات تسلیم کر لیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2729]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ ، النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ ، فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ، قَالَ: فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا، قَالَ: فَقُلْنَا: لَا بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ "، فَقُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: " فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا "، قَالَ: " وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ "، قَالَ " قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ "، قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عکرمہ بن عمار نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس حاضری کے لیے (اپنے گھروں سے) روانہ ہوئے۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لیے باہر نکل آئے۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی، کہا: ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آ گئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو (گھر میں) داخل ہو جاؤ۔ اور اگر چاہو تو یہیں (مسجد میں) بیٹھ جاؤ۔ کہا: ہم نے کہا: نہیں، ہم یہیں بیٹھیں گے، آپ ہمیں احادیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات (قیام میں پورے) قرآن کی قراءت کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے) یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ (ہر روز) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات (پورا) قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کریم! کیوں نہیں (یہ بات درست ہے) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ (آخر میں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ فرمایا: قرآن کی قراءت ایک ماہ میں (مکمل) کرو۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیا کرو۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ہر دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ہر سات دن میں پڑھ لیا کرو۔ اس سے زیادہ نہ کرو، تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ کہا: میں نے (اپنے اوپر) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نہیں جانتے شاید تمہاری عمر طویل ہو۔ کہا: میں اسی کی طرف آ گیا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتایا تھا، جب میں بوڑھا ہو گیا تو میں نے پسند کیا (اور تمنا کی) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2730]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2730 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ ، النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ ، فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ، قَالَ: فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا، قَالَ: فَقُلْنَا: لَا بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ "، فَقُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: " فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا "، قَالَ: " وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ "، قَالَ " قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ "، قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عکرمہ بن عمار نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس حاضری کے لیے (اپنے گھروں سے) روانہ ہوئے۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لیے باہر نکل آئے۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی، کہا: ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آ گئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو (گھر میں) داخل ہو جاؤ۔ اور اگر چاہو تو یہیں (مسجد میں) بیٹھ جاؤ۔ کہا: ہم نے کہا: نہیں، ہم یہیں بیٹھیں گے، آپ ہمیں احادیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات (قیام میں پورے) قرآن کی قراءت کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے) یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ (ہر روز) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات (پورا) قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کریم! کیوں نہیں (یہ بات درست ہے) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ (آخر میں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ فرمایا: قرآن کی قراءت ایک ماہ میں (مکمل) کرو۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیا کرو۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ہر دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ہر سات دن میں پڑھ لیا کرو۔ اس سے زیادہ نہ کرو، تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ کہا: میں نے (اپنے اوپر) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نہیں جانتے شاید تمہاری عمر طویل ہو۔ کہا: میں اسی کی طرف آ گیا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتایا تھا، جب میں بوڑھا ہو گیا تو میں نے پسند کیا (اور تمنا کی) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2730]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ "، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ؟، قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ: " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، وَلَكِنْ قَالَ: " وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان: ہر مہینے میں تین دن کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے: تمہارے لیے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس (نیکیاں) ہیں، تو یہ سارے سال کے (روزے) ہیں۔ اور (اس) حدیث میں کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ فرمایا: آدھا سال۔ اور انہوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انہوں نے تمہارے مہمانوں کا تم پر حق ہے کے الفاظ بیان نہیں کیے، اس کی بجائے انہوں نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) اور تمہاری اولاد کا تم پر حق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2731]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2731 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ "، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ؟، قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ: " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، وَلَكِنْ قَالَ: " وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان: ہر مہینے میں تین دن کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے: تمہارے لیے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس (نیکیاں) ہیں، تو یہ سارے سال کے (روزے) ہیں۔ اور (اس) حدیث میں کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ فرمایا: آدھا سال۔ اور انہوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انہوں نے تمہارے مہمانوں کا تم پر حق ہے کے الفاظ بیان نہیں کیے، اس کی بجائے انہوں نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) اور تمہاری اولاد کا تم پر حق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2731]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانَ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمان سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ (یحییٰ نے کہا:) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابوسلمہ سے سنی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں (مکمل) کیا کرو۔ میں نے عرض کی: میں (اس سے زیادہ کی) قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے عرض کی: میں (اس سے زیادہ کی) قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ اور اس سے زیادہ (قراءت) مت کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2732]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2732 صحیح مسلم
الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانَ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمان سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ (یحییٰ نے کہا:) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابوسلمہ سے سنی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں (مکمل) کیا کرو۔ میں نے عرض کی: میں (اس سے زیادہ کی) قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے عرض کی: میں (اس سے زیادہ کی) قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ اور اس سے زیادہ (قراءت) مت کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2732]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قِرَاءَةً، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ بِمِثْلِ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اوزاعی نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے (عمر) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے رات کا قیام ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2733]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2733 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قِرَاءَةً، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ بِمِثْلِ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اوزاعی نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے (عمر) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے رات کا قیام ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2733]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ "، قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "، قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: " عَطَاءٌ "، فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابوعباس نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہو اور (کوئی روزہ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟ تم ایسا نہ کرو کیونکہ (تمہارے وقت میں سے) تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے۔ (کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے) اور تمہاری جان کا بھی حصہ ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو، نماز پڑھو، آرام بھی کرو، اور ہر دس دن میں سے ایک دن کا روزہ رکھو اور تمہیں (باقی) نو دنوں کا (بھی) اجر ملے گا۔ کہا: اے اللہ کے نبی! میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو۔ کہا: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، ایک دن افطار کرتے تھے اور جب (دشمن سے) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے۔ کہا: اے اللہ کے نبی کریم! مجھے اس کی ضمانت کون دے گا (کہ میری زندگی کا ہر دن روزے سے شمار ہو گا؟) عطاء نے کہا: میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے (وقفے کے بغیر) ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2734]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2734 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ "، قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "، قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: " عَطَاءٌ "، فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابوعباس نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہو اور (کوئی روزہ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟ تم ایسا نہ کرو کیونکہ (تمہارے وقت میں سے) تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے۔ (کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے) اور تمہاری جان کا بھی حصہ ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو، نماز پڑھو، آرام بھی کرو، اور ہر دس دن میں سے ایک دن کا روزہ رکھو اور تمہیں (باقی) نو دنوں کا (بھی) اجر ملے گا۔ کہا: اے اللہ کے نبی! میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو۔ کہا: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، ایک دن افطار کرتے تھے اور جب (دشمن سے) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے۔ کہا: اے اللہ کے نبی کریم! مجھے اس کی ضمانت کون دے گا (کہ میری زندگی کا ہر دن روزے سے شمار ہو گا؟) عطاء نے کہا: میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے (وقفے کے بغیر) ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2734]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، قَالَ مُسْلِم: أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا کہ ابوعباس الشاعر نے ان کو خبر دی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں، ثقہ اور عدول ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2735]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2735 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، قَالَ مُسْلِم: أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا کہ ابوعباس الشاعر نے ان کو خبر دی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں، ثقہ اور عدول ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2735]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، حَبِيبٍ ، أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ "، قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعباس (سائب بن فروخ) سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ (بلاوقفہ روزانہ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو (ایسا کرنے والے کی) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور (جاگ جاگ کر) کمزور ہو جائیں گی، (اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہ رکھا، مہینے میں سے تین دن کے روزے پورے مہینے کے روزے (متصور) ہوں گے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ (روزے رکھنے) کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور (دشمن سے) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2736]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2736 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، حَبِيبٍ ، أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ "، قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعباس (سائب بن فروخ) سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ (بلاوقفہ روزانہ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو (ایسا کرنے والے کی) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور (جاگ جاگ کر) کمزور ہو جائیں گی، (اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہ رکھا، مہینے میں سے تین دن کے روزے پورے مہینے کے روزے (متصور) ہوں گے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ (روزے رکھنے) کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور (دشمن سے) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2736]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَنَفِهَتِ النَّفْسُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مسعر سے روایت ہے، کہا: ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا: اور (ہمیشہ روزے رکھنے والے کی) جان درماندہ ہو جائے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2737]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2737 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَنَفِهَتِ النَّفْسُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مسعر سے روایت ہے، کہا: ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا: اور (ہمیشہ روزے رکھنے والے کی) جان درماندہ ہو جائے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2737]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1159 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ "، قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، لِعَيْنِكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو سے، انہوں نے ابوعباس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور (روزانہ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی: میں یہ کام کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم یہ کام کرو گے تو (اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ) تمہاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی۔ اور تمہاری جان کمزور ہو جائے گی۔ تم پر تمہاری آنکھ کا حق ہے۔ تمہاری اپنی ذات کا حق ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا حق ہے۔ قیام کرو اور نیند بھی لو، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2738]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2738 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ "، قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، لِعَيْنِكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو سے، انہوں نے ابوعباس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور (روزانہ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی: میں یہ کام کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم یہ کام کرو گے تو (اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ) تمہاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی۔ اور تمہاری جان کمزور ہو جائے گی۔ تم پر تمہاری آنکھ کا حق ہے۔ تمہاری اپنی ذات کا حق ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا حق ہے۔ قیام کرو اور نیند بھی لو، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2738]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة