زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ "، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ؟، قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ: " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، وَلَكِنْ قَالَ: " وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان: ”ہر مہینے میں تین دن“ کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے: ”تمہارے لیے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس (نیکیاں) ہیں، تو یہ سارے سال کے (روزے) ہیں۔“ اور (اس) حدیث میں کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ فرمایا: ”آدھا سال۔“ اور انہوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انہوں نے ”تمہارے مہمانوں کا تم پر حق ہے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے، اس کی بجائے انہوں نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) ”اور تمہاری اولاد کا تم پر حق ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2731]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة