بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صوم و صال کی ممانعت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم روزوں کے احکام و مسائل باب: صوم و صال کی ممانعت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1102 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2563]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2563 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2563]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1102 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ، قِيلَ لَهُ: أَنْتَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان میں وصال فرمایا (یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے) لہذا صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی وصال شروع کر دیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وہ وصال کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2564]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2564 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ، قِيلَ لَهُ: أَنْتَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان میں وصال فرمایا (یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے) لہذا صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی وصال شروع کر دیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وہ وصال کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2564]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1102 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، جَدِّي ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کا لفظ نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2565]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2565 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، جَدِّي ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کا لفظ نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2565]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1103 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ، يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي "، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ "، كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے میری طرح کون ہے؟ میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ جب اس کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہم صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا: اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا۔ گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2566]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2566 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ، يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي "، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ "، كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے میری طرح کون ہے؟ میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ جب اس کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہم صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا: اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا۔ گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2566]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1103 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، جَرِيرٌ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ "، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2567 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، جَرِيرٌ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ "، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1103 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ، مغیرہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2568]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2568 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ، مغیرہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2568]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1103 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا۔ (آگے) ابوزرعہ سے عمارہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2569]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2569 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا۔ (آگے) ابوزرعہ سے عمارہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2569]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1104 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا، حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ، جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا، قَالَ: قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا: أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ؟، قَالَ: فَقَالَ: " نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ "، قَالَ: فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، ابونضر، ہاشم بن قاسم، سلیمان، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرما دی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے۔ آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہو گیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرما دیے وہ مہینے کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟ تم لوگ میری طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2570]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2570 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا، حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ، جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا، قَالَ: قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا: أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ؟، قَالَ: فَقَالَ: " نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ "، قَالَ: فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، ابونضر، ہاشم بن قاسم، سلیمان، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرما دی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے۔ آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہو گیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرما دیے وہ مہینے کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟ تم لوگ میری طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2570]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1104 صحیح مسلم
عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ، لَوَاصَلْنَا وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَوَ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عاصم بن نضر تیمی، خالد، ابن حارث، حمید، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے لیے یہ مہینہ لمبا ہو جائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2571 صحیح مسلم
عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ، لَوَاصَلْنَا وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَوَ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عاصم بن نضر تیمی، خالد، ابن حارث، حمید، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے لیے یہ مہینہ لمبا ہو جائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1105 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جميعا، عَنْ عَبْدَةَ ، قَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2572 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جميعا، عَنْ عَبْدَةَ ، قَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة