بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 1040 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے معمر سے، انہوں نے (امام زہری کے بھائی) عبداللہ بن مسلم سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ (بن عمر) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے ساتھ سوال چمٹا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2396]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2396 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے معمر سے، انہوں نے (امام زہری کے بھائی) عبداللہ بن مسلم سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ (بن عمر) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے ساتھ سوال چمٹا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2396]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1040 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْمَرٌ ، أَخِي الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ " مُزْعَةُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم نے معمر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور اس میں (گوشت کے) ٹکڑے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2397]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2397 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْمَرٌ ، أَخِي الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ " مُزْعَةُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم نے معمر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور اس میں (گوشت کے) ٹکڑے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2397]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1040 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، اللَّيْثُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ، حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے (مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2398]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2398 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، اللَّيْثُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ، حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے (مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2398]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1041 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کرلے یا زیادہ کرلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2399]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2399 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کرلے یا زیادہ کرلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2399]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1042 صحیح مسلم
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنَ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بیان بن ابی بشر نے قیس بن ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی شخص صبح کو نکلے اپنی پشت پر لکڑیاں اکھٹی کر لائے اور اس سے صدقہ کرے اور لوگوں (کے عطیوں) سے بے نیاز ہوجائے، وہ اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے مانگے، وہ (چاہے تو) اسے دے یا (چاہے تو) محروم رکھے، بلاشبہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے اور (خرچ کی) ابتدا ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2400]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2400 صحیح مسلم
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنَ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بیان بن ابی بشر نے قیس بن ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی شخص صبح کو نکلے اپنی پشت پر لکڑیاں اکھٹی کر لائے اور اس سے صدقہ کرے اور لوگوں (کے عطیوں) سے بے نیاز ہوجائے، وہ اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے مانگے، وہ (چاہے تو) اسے دے یا (چاہے تو) محروم رکھے، بلاشبہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے اور (خرچ کی) ابتدا ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2400]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1042 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل نے کہا: مجھے قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے ایک صبح کو نکلے، اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لائے اور انہیں بیچے۔۔۔ پھر بیان کی حدیث کے مانند حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2401]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2401 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل نے کہا: مجھے قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے ایک صبح کو نکلے، اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لائے اور انہیں بیچے۔۔۔ پھر بیان کی حدیث کے مانند حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2401]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1042 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ، فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایندھن کا گٹھا باندھے اور اپنی پیٹھ پر لادے، اور بیچ دے، اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے سوال کرے، (چاہے) وہ اسے دے یا نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2402]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2402 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ، فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایندھن کا گٹھا باندھے اور اپنی پیٹھ پر لادے، اور بیچ دے، اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے سوال کرے، (چاہے) وہ اسے دے یا نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2402]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1043 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومسلم خولانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایک پیارے امانت دار (شخص) نے حدیث بیان کی وہ ایسا ہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ۔۔۔ انہوں نے کہا: ہم نو، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے (حاضر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2403]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2403 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومسلم خولانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایک پیارے امانت دار (شخص) نے حدیث بیان کی وہ ایسا ہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ۔۔۔ انہوں نے کہا: ہم نو، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے (حاضر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2403]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة