عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومسلم خولانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایک پیارے امانت دار (شخص) نے حدیث بیان کی وہ ایسا ہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ۔۔۔ انہوں نے کہا: ہم نو، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے (حاضر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2403]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة