بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1040 — باب: نماز عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان۔
کتب صحیح مسلم نماز کے احکام و مسائل باب: نماز عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان۔ حدیث 1040
حدیث نمبر: 1040 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرٍ ، سُفْيَانُ ، أَبَا الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَانْحَرَفَ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ، وَإِنَّ مُعَاذًا، صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِكَذَا، وَاقْرَأْ بِكَذَا، قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اقْرَأْ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ عَمْرٌو: نَحْوَ هَذَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے عمرو سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آ کر اپنے قبیلے کی (مسجد میں) امامت کراتے، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر اپنی قوم کے پاس آئے، ان کی امامت کی اور (سورہ فاتحہ کے بعد) سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ ایک شخص الگ ہو گیا (نماز سے، سلام پھیرا، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا) تو لوگوں نے اس سے کہا: اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نہیں، میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آ کر سورہ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (یہ سن کر) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو۔ سفیان نے کہا: میں نے عمرو سے کہا: ابوزبیر نے ہمیں جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: «والشمس وضحاها»، «والضحى»، «والليل إذا يغشى» اور «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھا کرو۔ اور عمرو نے کہا: اس جیسی (سورتیں پڑھا کرو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1040]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1039) باب پر واپس اگلی حدیث (1041) →