بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایک کھجور یا ایک کام کی بات بھی صدقہ ہے اور دوزخ سے آڑ کرنے والا ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: ایک کھجور یا ایک کام کی بات بھی صدقہ ہے اور دوزخ سے آڑ کرنے والا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 1016 صحیح مسلم
عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، أَبِي إسحاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطاعت رکھے، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو، وہ ضرور (ایسا) کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2347]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2347 صحیح مسلم
عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، أَبِي إسحاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطاعت رکھے، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو، وہ ضرور (ایسا) کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2347]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1016 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ "، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَمِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ: " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، وقَالَ إسحاق: قَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ .
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے حدیث بیان کی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہیں، مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ اور اپنی دائیں جانب دیکھے گا، تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا، تو وہی کچھ دکھائی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا، تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھائی دے گی، اس لیے آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو۔ (علی بن حجر نے اضافہ کیا: اعمش نے کہا: مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا: چاہے پاکیزہ بول کے ساتھ (بچو)۔ اسحاق نے کہا: اعمش نے کہا: عمرو بن مرہ سے روایت ہے (کہا) خیثمہ سے روایت ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2348 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ "، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَمِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ: " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، وقَالَ إسحاق: قَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ .
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے حدیث بیان کی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہیں، مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ اور اپنی دائیں جانب دیکھے گا، تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا، تو وہی کچھ دکھائی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا، تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھائی دے گی، اس لیے آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو۔ (علی بن حجر نے اضافہ کیا: اعمش نے کہا: مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا: چاہے پاکیزہ بول کے ساتھ (بچو)۔ اسحاق نے کہا: اعمش نے کہا: عمرو بن مرہ سے روایت ہے (کہا) خیثمہ سے روایت ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1016 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ "، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا، وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دونوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا تذکرہ فرمایا، تو چہرہ مبارک ایک طرف موڑا اور اس میں مبالغہ کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو۔ پھر رخ مبارک پھیرا اور دور ہونے کا اشارہ کیا، حتیٰ کہ ہمیں گمان ہوا جیسے آپ اس (آگ) کی طرف دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا: آگ سے بچو، چاہے آدھی کھجور کے ساتھ، جسے (یہ بھی) نہ ملے، تو اچھی بات کے ساتھ۔ ابو کریب نے کانما (جیسے) کا (لفظ) ذکر نہیں کیا اور کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2349]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2349 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ "، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا، وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دونوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا تذکرہ فرمایا، تو چہرہ مبارک ایک طرف موڑا اور اس میں مبالغہ کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو۔ پھر رخ مبارک پھیرا اور دور ہونے کا اشارہ کیا، حتیٰ کہ ہمیں گمان ہوا جیسے آپ اس (آگ) کی طرف دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا: آگ سے بچو، چاہے آدھی کھجور کے ساتھ، جسے (یہ بھی) نہ ملے، تو اچھی بات کے ساتھ۔ ابو کریب نے کانما (جیسے) کا (لفظ) ذکر نہیں کیا اور کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2349]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1016 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا، تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ دور ہونے کا اشارہ کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے (بچو)، اگر تم (یہ بھی) نہ پاؤ، تو اچھی بات کے ساتھ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2350]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2350 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، خَيْثَمَةَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا، تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ دور ہونے کا اشارہ کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے (بچو)، اگر تم (یہ بھی) نہ پاؤ، تو اچھی بات کے ساتھ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2350]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1017 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ، مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ سورة النساء آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ سورة الحشر آية 18 تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، قَالَ: ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کے پاس کچھ لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، سوراخ کر کے دھاری دار چادریں یا عبائیں گلے میں ڈالے اور تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، ان میں سے اکثر، بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے، ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا، آپ اندر تشریف لے گئے، پھر باہر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ نے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔۔۔ آیت کے آخر تک «إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا» اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے: «اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ» اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔ (پھر فرمایا) آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینار سے، اپنے درہم سے، اپنے کپڑے سے، اپنی گندم کے ایک صاع سے، اپنی کھجور کے ایک صاع سے۔۔۔ حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے۔ (جریر نے) کہا: تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لایا، اس کی ہتھیلی اس (کو اٹھانے) سے عاجز آنے لگی تھی، بلکہ عاجز آگئی تھی، کہا: پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے، حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑھایا ہوا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا، تو اس کے لیے اس کا (اپنا بھی) اجر ہے اور ان کے جیسا اجر بھی جنہوں نے اس کے بعد اس (طریقے) پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی، اس کا بوجھ اسی پر ہے اور ان کا بوجھ بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2351]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2351 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ، مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ سورة النساء آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ سورة الحشر آية 18 تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، قَالَ: ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کے پاس کچھ لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، سوراخ کر کے دھاری دار چادریں یا عبائیں گلے میں ڈالے اور تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، ان میں سے اکثر، بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے، ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا، آپ اندر تشریف لے گئے، پھر باہر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ نے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔۔۔ آیت کے آخر تک «إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا» اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے: «اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ» اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔ (پھر فرمایا) آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینار سے، اپنے درہم سے، اپنے کپڑے سے، اپنی گندم کے ایک صاع سے، اپنی کھجور کے ایک صاع سے۔۔۔ حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے۔ (جریر نے) کہا: تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لایا، اس کی ہتھیلی اس (کو اٹھانے) سے عاجز آنے لگی تھی، بلکہ عاجز آگئی تھی، کہا: پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے، حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑھایا ہوا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا، تو اس کے لیے اس کا (اپنا بھی) اجر ہے اور ان کے جیسا اجر بھی جنہوں نے اس کے بعد اس (طریقے) پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی، اس کا بوجھ اسی پر ہے اور ان کا بوجھ بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2351]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1017 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّهَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے منذر بن جریر سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (حاضر) تھے۔۔۔ (آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے، کہا: پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر خطبہ دیا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2352]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2352 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّهَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے منذر بن جریر سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (حاضر) تھے۔۔۔ (آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے، کہا: پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر خطبہ دیا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2352]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1017 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ: فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ سورة النساء آية 1 " الْآيَةَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیان میں سوراخ کر کے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے: آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: «یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ» ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2353 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ: فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ سورة النساء آية 1 " الْآيَةَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیان میں سوراخ کر کے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے: آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: «یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ» ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1017 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدوؤں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے جسم پر اونی کپڑے تھے، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی، وہ فاقہ زدہ تھے۔۔۔ پھر ان (سابقہ راویان حدیث) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2354]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2354 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدوؤں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے جسم پر اونی کپڑے تھے، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی، وہ فاقہ زدہ تھے۔۔۔ پھر ان (سابقہ راویان حدیث) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2354]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة