عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ: فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ سورة النساء آية 1 " الْآيَةَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیان میں سوراخ کر کے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے: آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: «یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ» ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘“ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة