بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1014 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص پاکیزہ مال سے کوئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، مگر وہ رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، چاہے وہ کھجور کا ایک دانہ ہو، تو وہ اس رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے، حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2342 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص پاکیزہ مال سے کوئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، مگر وہ رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، چاہے وہ کھجور کا ایک دانہ ہو، تو وہ اس رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے، حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1014 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمن القاری نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابو صالح) سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا، مگر اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے، حتیٰ کہ وہ (کھجور) پہاڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2343 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمن القاری نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابو صالح) سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا، مگر اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے، حتیٰ کہ وہ (کھجور) پہاڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1014 صحیح مسلم
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، سُهَيْلٍ
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ " مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ، فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا "، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: " فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی، روح کی حدیث میں ہے: «من الكسب الطيب فيضعها في حقها» (حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے، پھر اس کو وہاں لگاتا ہے جہاں اس کا حق ہے) اور سلیمان کی حدیث میں ہے: «فيضعها في موضعها» (اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2344 صحیح مسلم
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، سُهَيْلٍ
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ " مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ، فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا "، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: " فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی، روح کی حدیث میں ہے: «من الكسب الطيب فيضعها في حقها» (حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے، پھر اس کو وہاں لگاتا ہے جہاں اس کا حق ہے) اور سلیمان کی حدیث میں ہے: «فيضعها في موضعها» (اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1014 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ، عَنْ سُهَيْلٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2345 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ، عَنْ سُهَيْلٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1015 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا، اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» اے پیغمبران کرام! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو، جو عمل تم کرتے ہو، میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ» اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس میں سے کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے۔ (دعا کے لیے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2346 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا، اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» اے پیغمبران کرام! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو، جو عمل تم کرتے ہو، میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ» اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس میں سے کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے۔ (دعا کے لیے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة