أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا، اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» اے پیغمبران کرام! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو، جو عمل تم کرتے ہو، میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ» اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس میں سے کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے۔ (دعا کے لیے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة