بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1011 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: صدقہ کرو، وہ وقت قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر چلے گا، تو جسے وہ پیش کیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر کل تم اسے ہمارے پاس لاتے، تو میں اسے قبول کر لیتا، مگر اب مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2337]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2337 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: صدقہ کرو، وہ وقت قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر چلے گا، تو جسے وہ پیش کیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر کل تم اسے ہمارے پاس لاتے، تو میں اسے قبول کر لیتا، مگر اب مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2337]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1012 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ: " وَتَرَى الرَّجُلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: لوگوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا، پھر اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا جس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔ ابن براد کی روایت میں (ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا) کی جگہ «وتر رجل» (اور تم ایسے آدمی کو دیکھو گے) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2338]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2338 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ: " وَتَرَى الرَّجُلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: لوگوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا، پھر اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا جس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔ ابن براد کی روایت میں (ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا) کی جگہ «وتر رجل» (اور تم ایسے آدمی کو دیکھو گے) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2338]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 157 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ، فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل کے والد (ابو صالح) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال بڑھ جائے گا اور (پانی کی طرح) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا، تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبول کر لے اور یہاں تک کہ عرب کی سرزمین دوبارہ چراگاہوں اور نہروں میں بدل جائے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2339]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2339 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ، فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل کے والد (ابو صالح) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال بڑھ جائے گا اور (پانی کی طرح) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا، تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبول کر لے اور یہاں تک کہ عرب کی سرزمین دوبارہ چراگاہوں اور نہروں میں بدل جائے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2339]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 157 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً، وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا أَرَبَ لِي فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی، وہ مال (پانی کی طرح) بہے گا، یہاں تک کہ مال کے مالک کو یہ فکر لاحق ہو گی کہ اس سے اس (مال) کو بطور صدقہ کون قبول کرے گا؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلایا جائے گا، تو وہ کہے گا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2340 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً، وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا أَرَبَ لِي فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی، وہ مال (پانی کی طرح) بہے گا، یہاں تک کہ مال کے مالک کو یہ فکر لاحق ہو گی کہ اس سے اس (مال) کو بطور صدقہ کون قبول کرے گا؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلایا جائے گا، تو وہ کہے گا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1013 صحیح مسلم
وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، واللفظ لواصل، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چاندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی، تو قاتل آئے گا اور کہے گا: کیا اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا؟ رشتہ داری توڑنے والا آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی؟ چور آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا؟ پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2341 صحیح مسلم
وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، واللفظ لواصل، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چاندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی، تو قاتل آئے گا اور کہے گا: کیا اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا؟ رشتہ داری توڑنے والا آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی؟ چور آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا؟ پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة