أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً، وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا أَرَبَ لِي فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی، وہ مال (پانی کی طرح) بہے گا، یہاں تک کہ مال کے مالک کو یہ فکر لاحق ہو گی کہ اس سے اس (مال) کو بطور صدقہ کون قبول کرے گا؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلایا جائے گا، تو وہ کہے گا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة