بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 998 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ"، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انہیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔ مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ (کے طور پر محفوظ) ہونے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب، یہ سودمند مال ہے، یہ نفع بخش مال ہے، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہے کہ تم اسے (اپنے) قرابت داروں کو دے دو۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2315]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2315 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ"، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انہیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔ مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ (کے طور پر محفوظ) ہونے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب، یہ سودمند مال ہے، یہ نفع بخش مال ہے، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہے کہ تم اسے (اپنے) قرابت داروں کو دے دو۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2315]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 998 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ"، قَالَ: فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» تم نیکی (کی حقیقی لذت) حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو۔ (تو) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے پروردگار کو دیکھتا ہوں کہ وہ ہم سے مال کا مطالبہ کر رہا ہے، لہٰذا اے اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین بیرحاء اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ تو انہوں نے وہ حضرت حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کو دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2316]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2316 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ"، قَالَ: فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» تم نیکی (کی حقیقی لذت) حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو۔ (تو) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے پروردگار کو دیکھتا ہوں کہ وہ ہم سے مال کا مطالبہ کر رہا ہے، لہٰذا اے اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین بیرحاء اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ تو انہوں نے وہ حضرت حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کو دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2316]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 999 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرٍ ، كُرَيْبٍ ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ام المؤمنین) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو یہ (کام) تمہارے اجر کو بڑھا دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2317 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرٍ ، كُرَيْبٍ ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ام المؤمنین) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو یہ (کام) تمہارے اجر کو بڑھا دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1000 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي، وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاجَتِي حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا، وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟، وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هُمَا؟" فَقَالَ: امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ الزَّيَانِبِ؟"، قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا (بنت عبداللہ بن ابی معاویہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو۔ کہا: تو میں (اپنے خاوند) عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا: تم کم مایہ آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگر اس (کو تمہیں دینے) سے میری طرف سے ادا ہو جائے گا (تو ٹھیک) ورنہ میں اسے تمہارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دوں گی۔ کہا: تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلی جاؤ۔ انہوں نے کہا: میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور (مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے) اس کی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی۔ کہا: بلال رضی اللہ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں ہیں، آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جو ان کی کفالت میں ہیں، صدقہ جائز ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: زینبوں میں سے کون سی؟ انہوں نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: ان کے لیے دو اجر ہیں: (ایک) قرابت نبھانے کا اجر اور (دوسرا) صدقہ کرنے کا اجر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2318 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي، وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاجَتِي حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا، وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟، وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هُمَا؟" فَقَالَ: امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ الزَّيَانِبِ؟"، قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا (بنت عبداللہ بن ابی معاویہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو۔ کہا: تو میں (اپنے خاوند) عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا: تم کم مایہ آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگر اس (کو تمہیں دینے) سے میری طرف سے ادا ہو جائے گا (تو ٹھیک) ورنہ میں اسے تمہارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دوں گی۔ کہا: تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلی جاؤ۔ انہوں نے کہا: میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور (مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے) اس کی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی۔ کہا: بلال رضی اللہ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں ہیں، آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جو ان کی کفالت میں ہیں، صدقہ جائز ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: زینبوں میں سے کون سی؟ انہوں نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: ان کے لیے دو اجر ہیں: (ایک) قرابت نبھانے کا اجر اور (دوسرا) صدقہ کرنے کا اجر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1000 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٌ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، لِإِبْرَاهِيمَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی۔ (اعمش نے) کہا: میں نے (یہ حدیث) ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے مجھے ابوعبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، بالکل اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، اور کہا: انہوں (زینب رضی اللہ عنہا) نے کہا: میں مسجد میں تھی (اس دروازے پر جو مسجد میں تھا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بلال رضی اللہ عنہ کے بتانے پر) مجھے دیکھا تو فرمایا: ’صدقہ کرو، چاہے اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔‘ اعمش نے باقی حدیث ابواحوص کی (مذکورہ بالا) روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2319]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2319 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٌ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، لِإِبْرَاهِيمَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی۔ (اعمش نے) کہا: میں نے (یہ حدیث) ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے مجھے ابوعبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، بالکل اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، اور کہا: انہوں (زینب رضی اللہ عنہا) نے کہا: میں مسجد میں تھی (اس دروازے پر جو مسجد میں تھا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بلال رضی اللہ عنہ کے بتانے پر) مجھے دیکھا تو فرمایا: ’صدقہ کرو، چاہے اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔‘ اعمش نے باقی حدیث ابواحوص کی (مذکورہ بالا) روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2319]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1001 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟، أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لیے اجر ہے؟ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، میں انہیں ایسے، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے لیے ان میں، جو تم ان پر خرچ کرو گی، اجر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2320]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2320 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟، أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لیے اجر ہے؟ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، میں انہیں ایسے، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے لیے ان میں، جو تم ان پر خرچ کرو گی، اجر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2320]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1001 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر اور معمر (راشد) دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2321]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2321 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر اور معمر (راشد) دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2321]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1002 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن معاذ عنبری کے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2322]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2322 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن معاذ عنبری کے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2322]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1002 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر اور وکیع دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ شعبہ سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2323]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2323 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر اور وکیع دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ شعبہ سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2323]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1003 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2324]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2324 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2324]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة