أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2324]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة