أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟، أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لیے اجر ہے؟ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، میں انہیں ایسے، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بچے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہارے لیے ان میں، جو تم ان پر خرچ کرو گی، اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2320]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة