بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 954 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟، قَالَ: الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: " انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا "، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَنْ حَدَّثَكَ؟، قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی نے کہا: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گیلی (نئی) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور انہوں نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے عامر (بن شراحیل شعبی) سے پوچھا: آپ کو (یہ حدیث) کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2211]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2211 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟، قَالَ: الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: " انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا "، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَنْ حَدَّثَكَ؟، قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی نے کہا: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گیلی (نئی) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور انہوں نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے عامر (بن شراحیل شعبی) سے پوچھا: آپ کو (یہ حدیث) کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2211]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 954 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم، عبدالواحد بن زیاد، جریر، سفیان، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2212]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2212 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم، عبدالواحد بن زیاد، جریر، سفیان، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2212]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 954 صحیح مسلم
إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، شُعْبَةَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي حَصِينٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ: " وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، ان کی حدیث میں (بھی) «وكبر أربعا» (آپ نے چار تکبیریں کہیں) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2213]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2213 صحیح مسلم
إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، شُعْبَةَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي حَصِينٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ: " وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، ان کی حدیث میں (بھی) «وكبر أربعا» (آپ نے چار تکبیریں کہیں) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2213]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 955 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2214]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2214 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2214]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 956 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، واللفظ لأبي كامل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ: " أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ "، فَدَلُّوهُ " فَصَلَّى عَلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔۔۔ یا ایک نوجوان تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟ کہا: گویا ان لوگوں نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی قبر دکھائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: اہل قبور کے لیے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور میری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان (قبروں) کو منور فرما دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2215]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2215 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، واللفظ لأبي كامل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ: " أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ "، فَدَلُّوهُ " فَصَلَّى عَلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔۔۔ یا ایک نوجوان تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟ کہا: گویا ان لوگوں نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی قبر دکھائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: اہل قبور کے لیے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور میری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان (قبروں) کو منور فرما دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2215]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 957 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، زَيْدٌ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: " كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا "، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا: زید رضی اللہ عنہ (بن ارقم) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے، انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں، میں نے ان سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (بسا اوقات) اتنی (پانچ) تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2216 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، زَيْدٌ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: " كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا "، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا: زید رضی اللہ عنہ (بن ارقم) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے، انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں، میں نے ان سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (بسا اوقات) اتنی (پانچ) تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة