أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، واللفظ لأبي كامل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ: " أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ "، فَدَلُّوهُ " فَصَلَّى عَلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔۔۔ یا ایک نوجوان تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟“ کہا: گویا ان لوگوں نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔“ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی قبر دکھائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: ”اہل قبور کے لیے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور میری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان (قبروں) کو منور فرما دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2215]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة