بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2211 — باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔ حدیث 2211
حدیث نمبر: 2211 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟، قَالَ: الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: " انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا "، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَنْ حَدَّثَكَ؟، قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی نے کہا: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گیلی (نئی) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور انہوں نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے عامر (بن شراحیل شعبی) سے پوچھا: آپ کو (یہ حدیث) کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2211]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2210) باب پر واپس اگلی حدیث (2212) →