زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ "، يَعْنِي: النَّجَاشِيَ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ: " إِنَّ أَخَاكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، علی بن حجر، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ایک بھائی وفات پا گیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ آپ کی مراد نجاشی سے تھی۔ اور زہیر کی روایت میں «إن أخالكم» (تمہارا ایک بھائی) کی بجائے «إن أخاكم» (تمہارا بھائی) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2210]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة