بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ابْنِ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ: مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ، أَلَمْ تَعْلَمِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انہوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس پر اس کے گھر والوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2142]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2142 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ابْنِ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ: مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ، أَلَمْ تَعْلَمِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انہوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس پر اس کے گھر والوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2142]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2143 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2144]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2144 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2144]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوصالح نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا وہ بے ہوش ہو گئے، تب ان پر بلند آواز سے چیخ و پکار کی گئی، جب ان کو افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے؟‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2145 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوصالح نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا وہ بے ہوش ہو گئے، تب ان پر بلند آواز سے چیخ و پکار کی گئی، جب ان کو افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے؟‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ، جَعَلَ صُهَيْبٌ، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسحاق شیبانی نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا: ہائے میرا بھائی! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: صہیب! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’زندہ کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2146]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2146 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ، جَعَلَ صُهَيْبٌ، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسحاق شیبانی نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا: ہائے میرا بھائی! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: صہیب! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’زندہ کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2146]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153) [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2147]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2147 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153) [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2147]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 927 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ "، وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلا کیا، انہوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟ اور (اسی طرح) صہیب رضی اللہ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تمہیں علم نہیں: ’جس پر واویلا کیا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2148]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2148 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ "، وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلا کیا، انہوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟ اور (اسی طرح) صہیب رضی اللہ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تمہیں علم نہیں: ’جس پر واویلا کیا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2148]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 928 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ ، أَيُّوبُ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ، فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرٍ وَأَنْ يَقُومَ فَيَنْهَاهُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ "، قَالَ: فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ، قَالَ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ، قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ، وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَعْلَمْ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ، قَالَ أَيُّوبُ أَوَ قَالَ: أَوَ لَمْ تَعْلَمْ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ "، قَالَ: فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً، وَأَمَّا عُمَرُ، فَقَالَ: بِبَعْضِ، فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَتْ: " لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ "، وَلَكِنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى "، قَالَ أَيُّوبُ : قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَتْ: " إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ عمرو بن عثمان بھی ان کے پاس تھے، اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، انہیں لے کر آنے والا ایک آدمی لایا، میرے خیال میں اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹھنے کی جگہ کے بارے میں بتایا تو وہ آکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے، میں ان دونوں کے درمیان میں تھا، اچانک گھر (کے اندر) سے (رونے کی) آواز آئی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔۔۔ اور ایسا لگتا تھا وہ عمرو بن عثمان کو اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ انہیں اور ان کو روکیں۔۔۔ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) کہا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلا شرط و قید (یعنی ہر طرح کے رونے کے حوالے سے) بیان کیا۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے ایک آدمی کو درخت کے سائے میں پڑا ہوا دیکھا، انہوں نے مجھ سے کہا: جاؤ اور میرے لیے پتا کرو کہ وہ کون آدمی ہے۔ میں گیا تو دیکھا وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے، میں ان کے پاس واپس آیا اور کہا: آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے لیے پتا کروں کہ وہ کون شخص ہیں تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ انہوں نے کہا: (جاؤ اور) ان کو حکم (پہنچا) دو کہ وہ ہمارے ساتھ (قافلے میں) آجائیں۔ میں نے کہا: ان کے ساتھ ان کے گھر والے ہیں۔ انہوں نے کہا: چاہے ان کے ساتھ ان کے گھر والے (بھی) ہیں، شامل ہو جائیں۔ بسا اوقات ایوب نے (بس یہاں تک کہا): ان سے کہو کہ وہ ہمارے ساتھ (قافلے میں) شامل ہو جائیں۔۔۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ امیر المومنین زخمی کر دیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے آئے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں یا (کہا: تم نے سنا نہیں۔۔۔ ایوب نے کہا: یا انہوں نے (اس کے بجائے) «أَوَلَمْ تَعْلَمْ»، «أَوَلَمْ تَسْمَعْ» ’کیا تمہیں پتا نہیں‘ اور ’تم نے سنا نہیں‘ کے الفاظ کہے۔۔۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس کے گھر والوں کے بعض (طرح کے) رونے سے عذاب دیا جاتا ہے؟‘ (ابن ابی ملیکہ نے) کہا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس (رونے کے لفظ) کو بلا قید بیان کیا جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (لفظ) بعض (کی قید) کے ساتھ کہا تھا۔ میں (ابن ابی ملیکہ) اٹھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو کہا تھا ان کو بتایا، انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ میت کو کسی ایک کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا ہے: ’اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اضافہ کر دیتا ہے (کیونکہ کافروں نے اپنی اولاد کو بلند آواز سے رونا سکھایا ہوتا ہے، رہا بغیر آواز کے رونا تو اس کی ذمہ داری رونے والے پر نہیں کیونکہ) بے شک اللہ ہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔‘ اور «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» (بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)۔ (آواز کے بغیر محض آنسوؤں سے رونے کا نہ رونے والے کو گناہ ہے نہ اس کے بڑوں کو کیونکہ وہ بھی اس کے ذمہ دار نہیں۔) ایوب نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے کہا: مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حضرت عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: تم مجھے ایسے دو افراد کی حدیث بیان کرتے ہو جو نہ (خود جھوٹ بولنے والے ہیں اور نہ جھٹلائے جانے والے ہیں) لیکن (بعض اوقات) سماع (سننا) غلط ہو جاتا ہے (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اور سیاق میں یہ بات کی تھی، دیکھیے حدیث نمبر 2153، 2156)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2149]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2149 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ ، أَيُّوبُ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ، فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرٍ وَأَنْ يَقُومَ فَيَنْهَاهُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ "، قَالَ: فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ، قَالَ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ، قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ، وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَعْلَمْ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ، قَالَ أَيُّوبُ أَوَ قَالَ: أَوَ لَمْ تَعْلَمْ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ "، قَالَ: فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً، وَأَمَّا عُمَرُ، فَقَالَ: بِبَعْضِ، فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَتْ: " لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ "، وَلَكِنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى "، قَالَ أَيُّوبُ : قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَتْ: " إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ عمرو بن عثمان بھی ان کے پاس تھے، اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، انہیں لے کر آنے والا ایک آدمی لایا، میرے خیال میں اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹھنے کی جگہ کے بارے میں بتایا تو وہ آکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے، میں ان دونوں کے درمیان میں تھا، اچانک گھر (کے اندر) سے (رونے کی) آواز آئی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔۔۔ اور ایسا لگتا تھا وہ عمرو بن عثمان کو اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ انہیں اور ان کو روکیں۔۔۔ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) کہا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلا شرط و قید (یعنی ہر طرح کے رونے کے حوالے سے) بیان کیا۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے ایک آدمی کو درخت کے سائے میں پڑا ہوا دیکھا، انہوں نے مجھ سے کہا: جاؤ اور میرے لیے پتا کرو کہ وہ کون آدمی ہے۔ میں گیا تو دیکھا وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے، میں ان کے پاس واپس آیا اور کہا: آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے لیے پتا کروں کہ وہ کون شخص ہیں تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ انہوں نے کہا: (جاؤ اور) ان کو حکم (پہنچا) دو کہ وہ ہمارے ساتھ (قافلے میں) آجائیں۔ میں نے کہا: ان کے ساتھ ان کے گھر والے ہیں۔ انہوں نے کہا: چاہے ان کے ساتھ ان کے گھر والے (بھی) ہیں، شامل ہو جائیں۔ بسا اوقات ایوب نے (بس یہاں تک کہا): ان سے کہو کہ وہ ہمارے ساتھ (قافلے میں) شامل ہو جائیں۔۔۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ امیر المومنین زخمی کر دیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے آئے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں یا (کہا: تم نے سنا نہیں۔۔۔ ایوب نے کہا: یا انہوں نے (اس کے بجائے) «أَوَلَمْ تَعْلَمْ»، «أَوَلَمْ تَسْمَعْ» ’کیا تمہیں پتا نہیں‘ اور ’تم نے سنا نہیں‘ کے الفاظ کہے۔۔۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس کے گھر والوں کے بعض (طرح کے) رونے سے عذاب دیا جاتا ہے؟‘ (ابن ابی ملیکہ نے) کہا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس (رونے کے لفظ) کو بلا قید بیان کیا جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (لفظ) بعض (کی قید) کے ساتھ کہا تھا۔ میں (ابن ابی ملیکہ) اٹھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو کہا تھا ان کو بتایا، انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ میت کو کسی ایک کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا ہے: ’اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اضافہ کر دیتا ہے (کیونکہ کافروں نے اپنی اولاد کو بلند آواز سے رونا سکھایا ہوتا ہے، رہا بغیر آواز کے رونا تو اس کی ذمہ داری رونے والے پر نہیں کیونکہ) بے شک اللہ ہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔‘ اور «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» (بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)۔ (آواز کے بغیر محض آنسوؤں سے رونے کا نہ رونے والے کو گناہ ہے نہ اس کے بڑوں کو کیونکہ وہ بھی اس کے ذمہ دار نہیں۔) ایوب نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے کہا: مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حضرت عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: تم مجھے ایسے دو افراد کی حدیث بیان کرتے ہو جو نہ (خود جھوٹ بولنے والے ہیں اور نہ جھٹلائے جانے والے ہیں) لیکن (بعض اوقات) سماع (سننا) غلط ہو جاتا ہے (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اور سیاق میں یہ بات کی تھی، دیکھیے حدیث نمبر 2153، 2156)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2149]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 928 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، قَالَ: فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ: أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُيَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ، فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ادْعُهُ لِي، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ، فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ، دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ؟، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ: وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی مکہ میں فوت ہو گئی تو ہم ان کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے، حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ میں ان دونوں کے درمیان میں بیٹھا تھا، میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا تھا پھر دوسرا آکر میرے پہلو میں بیٹھ گیا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے، اور وہ ان کے روبرو بیٹھے ہوئے تھے، کہا: تم رونے سے روکتے کیوں نہیں؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے بعض (طرح کے رونے سے) کہا کرتے تھے، پھر انہوں نے (مکمل) حدیث بیان کی، کہا: میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹا حتیٰ کہ جب ہم مقام بیداء پر پہنچے تو اچانک انہیں درخت کے سائے تلے کچھ اونٹ سوار دکھائی دیے، انہوں نے کہا: جا کر دیکھو یہ اونٹ سوار کون ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے (آکر) انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: انہیں میرے پاس بلاؤ۔ میں لوٹ کر صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ میں نے کہا: چلیے، امیر المومنین کے ساتھ ہو جائیے۔ اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیے گئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے اندر آئے کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تم مجھ پر رو رہے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ’میت کو اس کے گھر والوں کے بعض (طرح کے) رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ عمر پر رحم فرمائے! اللہ کی قسم! نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا: ’اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے۔‘ کہا: اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور تمہارے لیے قرآن کافی ہے (جس میں یہ ہے): «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» (بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)۔ اس کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (جواب میں) کچھ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2150]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2150 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، قَالَ: فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ: أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُيَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ، فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ادْعُهُ لِي، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ، فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ، دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ؟، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ: وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی مکہ میں فوت ہو گئی تو ہم ان کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے، حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ میں ان دونوں کے درمیان میں بیٹھا تھا، میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا تھا پھر دوسرا آکر میرے پہلو میں بیٹھ گیا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے، اور وہ ان کے روبرو بیٹھے ہوئے تھے، کہا: تم رونے سے روکتے کیوں نہیں؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے بعض (طرح کے رونے سے) کہا کرتے تھے، پھر انہوں نے (مکمل) حدیث بیان کی، کہا: میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹا حتیٰ کہ جب ہم مقام بیداء پر پہنچے تو اچانک انہیں درخت کے سائے تلے کچھ اونٹ سوار دکھائی دیے، انہوں نے کہا: جا کر دیکھو یہ اونٹ سوار کون ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے (آکر) انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: انہیں میرے پاس بلاؤ۔ میں لوٹ کر صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ میں نے کہا: چلیے، امیر المومنین کے ساتھ ہو جائیے۔ اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیے گئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے اندر آئے کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تم مجھ پر رو رہے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ’میت کو اس کے گھر والوں کے بعض (طرح کے) رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ عمر پر رحم فرمائے! اللہ کی قسم! نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا: ’اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے۔‘ کہا: اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور تمہارے لیے قرآن کافی ہے (جس میں یہ ہے): «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» (بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)۔ اس کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (جواب میں) کچھ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2150]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 929 صحیح مسلم
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن دینار نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں (حاضر) تھے۔۔۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، انہوں (عمرو) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (آگے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دونوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2151]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2151 صحیح مسلم
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن دینار نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں (حاضر) تھے۔۔۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، انہوں (عمرو) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (آگے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دونوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2151]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة