بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2151 — باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حدیث 2151
حدیث نمبر: 2151 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن دینار نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں (حاضر) تھے۔۔۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، انہوں (عمرو) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (آگے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دونوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2151]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2150) باب پر واپس اگلی حدیث (2152) →