بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2147 — باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حدیث 2147
حدیث نمبر: 2147 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153) [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2147]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2146) باب پر واپس اگلی حدیث (2148) →