بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قرأت کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: قرأت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 823 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاق ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ، فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 أَدَالًا، أَمْ ذَالًا؟ قَالَ: بَلْ دَالًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُدَّكِرٍ دَالًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہم سے ابواسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید (سبیعی کوفی) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے، سوال کیا: تم اس (آیت) کو کیسے پڑھتے ہو؟ دال پڑھتے ہو یا ذال؟ انہوں نے جواب دیا: دال پڑھتا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو «فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ» دال کے ساتھ پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1914 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاق ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ، فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 أَدَالًا، أَمْ ذَالًا؟ قَالَ: بَلْ دَالًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُدَّكِرٍ دَالًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہم سے ابواسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید (سبیعی کوفی) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے، سوال کیا: تم اس (آیت) کو کیسے پڑھتے ہو؟ دال پڑھتے ہو یا ذال؟ انہوں نے جواب دیا: دال پڑھتا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو «فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ» دال کے ساتھ پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 823 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْف: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کلمے «مُّدَّکِرٍ» کو (دال کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1915]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1915 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْف: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کلمے «مُّدَّکِرٍ» کو (دال کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1915]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 824 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ، فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا، قَالَ: " فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ، وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ (بن قیس کوفی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں میں (پڑھتا ہوں)۔ انہوں نے پوچھا: تم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ آیت «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» کیسے پڑھتے سنا ہے؟ (میں نے) کہا: میں نے انہیں «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ» پڑھتے سنا۔ انہوں نے کہا: اور میں نے بھی اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ» پڑھوں، میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا۔ (ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ عنہما غالباً قراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی نے سکھائی تھی۔) [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1916]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1916 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ، فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا، قَالَ: " فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ، وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ (بن قیس کوفی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں میں (پڑھتا ہوں)۔ انہوں نے پوچھا: تم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ آیت «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» کیسے پڑھتے سنا ہے؟ (میں نے) کہا: میں نے انہیں «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ» پڑھتے سنا۔ انہوں نے کہا: اور میں نے بھی اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ» پڑھوں، میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا۔ (ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ عنہما غالباً قراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی نے سکھائی تھی۔) [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1916]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 824 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: علقمہ ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد) لوگوں کے اکھٹا ہونے اور (ان کی وجہ سے) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتا چل گیا (اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)، (علقمہ نے کہا): وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمہیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1917]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1917 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: علقمہ ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد) لوگوں کے اکھٹا ہونے اور (ان کی وجہ سے) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتا چل گیا (اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)، (علقمہ نے کہا): وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمہیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1917]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 824 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: مِنْ أَيِّهِمْ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، قَالَ: فَقَرَأْتُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے داود بن ابی ہند سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے، انہوں نے پوچھا: ان کے کون سے لوگوں میں سے؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے، انہوں نے پوچھا: کیا تم (قرآن مجید) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» پڑھو۔ میں نے پڑھا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ ﴿﴾ وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلَّیٰ ﴿﴾ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ»، کہا: وہ ہنس پڑے پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1918]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1918 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: مِنْ أَيِّهِمْ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، قَالَ: فَقَرَأْتُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے داود بن ابی ہند سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے، انہوں نے پوچھا: ان کے کون سے لوگوں میں سے؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے، انہوں نے پوچھا: کیا تم (قرآن مجید) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» پڑھو۔ میں نے پڑھا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ ﴿﴾ وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلَّیٰ ﴿﴾ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ»، کہا: وہ ہنس پڑے پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1918]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 824 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الأَعْلَى ، دَاوُدُ ، عَامِرٍ ، عَلْقَمَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے داود نے عامر (شعبی) سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا۔ آگے ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1919]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1919 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الأَعْلَى ، دَاوُدُ ، عَامِرٍ ، عَلْقَمَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے داود نے عامر (شعبی) سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا۔ آگے ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1919]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة