قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: علقمہ ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد) لوگوں کے اکھٹا ہونے اور (ان کی وجہ سے) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتا چل گیا (اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)، (علقمہ نے کہا): وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمہیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1917]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة