أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاق ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ، فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 أَدَالًا، أَمْ ذَالًا؟ قَالَ: بَلْ دَالًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُدَّكِرٍ دَالًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہم سے ابواسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید (سبیعی کوفی) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے، سوال کیا: تم اس (آیت) کو کیسے پڑھتے ہو؟ دال پڑھتے ہو یا ذال؟ انہوں نے جواب دیا: دال پڑھتا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو «فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ» دال کے ساتھ پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة