قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ، وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: " أَلَا تُصَلُّونَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے وقت انہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جگایا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھو گے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ واپس چلے گئے، پھر میں نے آپ کو سنا کہ آپ واپس پلٹتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے (آیت کا ایک ٹکڑا پڑھتے) تھے: ”إن الإنسان لكثير الجدل“ ”انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا کرنے والا ہے۔“ (جدل (جھگڑا) یہ تھا کہ جگائے جانے پر ممنون ہونے اور نماز پڑھنے کی بجائے عذر پیش کیا گیا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1818]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة