عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ، إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا، طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ، كَسْلَانَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کیا، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ تم پر ایک بہت لمبی رات (کا سونا لازم) ہے، جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ چاق و چوبند، ہشاش بشاش پاک طبیعت (کے ساتھ) صبح کرتا ہے، ورنہ (جاگ کر عبادت نہیں کرتا تو) صبح کو گندے دل کے ساتھ اور سست اٹھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1819]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة