بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 389 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے حتیٰ کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں۔ تم میں سے کوئی جب یہ (کیفیت) پائے تو وہ (آخری تشہد میں) بیٹھے ہوئے دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1265]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1265 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے حتیٰ کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں۔ تم میں سے کوئی جب یہ (کیفیت) پائے تو وہ (آخری تشہد میں) بیٹھے ہوئے دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1265]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 569 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1266]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1266 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1266]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 569 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ,
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے، کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، گوز مار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان (کی آواز) نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو (واپس) آتا ہے، پھر جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کرائے، وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں (اسے یاد کراتا ہے) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1267]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1267 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ,
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے، کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، گوز مار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان (کی آواز) نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو (واپس) آتا ہے، پھر جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کرائے، وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں (اسے یاد کراتا ہے) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1267]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 569 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى، وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ: فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1268 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى، وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ: فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 570 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے اور (درمیان کے تشہد کے لیے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1269 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے اور (درمیان کے تشہد کے لیے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 570 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِب، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے، جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز میں، جب آپ کو (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنا تھا، کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، اور لوگوں نے بھی (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی جگہ، جو آپ بھول گئے تھے، آپ کے ساتھ دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1270 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِب، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے، جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز میں، جب آپ کو (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنا تھا، کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، اور لوگوں نے بھی (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی جگہ، جو آپ بھول گئے تھے، آپ کے ساتھ دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 570 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فِي الشَّفْعِ، الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ، سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابن شہاب کے بجائے) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتوں کے بعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا، (وہاں) کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی۔ پھر جب نماز کے آخر میں پہنچے تو سلام سے پہلے سجدے کیے، اس کے بعد سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1271 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فِي الشَّفْعِ، الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ، سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابن شہاب کے بجائے) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتوں کے بعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا، (وہاں) کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی۔ پھر جب نماز کے آخر میں پہنچے تو سلام سے پہلے سجدے کیے، اس کے بعد سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 571 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، ثَلَاثًا، أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے (تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کر دیں گے اور اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1272]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1272 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، ثَلَاثًا، أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے (تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کر دیں گے اور اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1272]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 571 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي مَعْنَاهُ، قَالَ: يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ السَّلَامِ، كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا: وہ (نمازی) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1273]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1273 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي مَعْنَاهُ، قَالَ: يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ السَّلَامِ، كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا: وہ (نمازی) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1273]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 572 صحیح مسلم
عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، زَادَ أَوْ نَقَصَ: فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ. فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى، كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا: آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی۔ پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز (تبدیلی) آ گئی ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ صحابہ نے عرض کی: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ (راوی نے کہا:) آپ نے اپنے پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور اس کے مطابق (نماز کی) تکمیل کرے، پھر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1274]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1274 صحیح مسلم
عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، زَادَ أَوْ نَقَصَ: فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ. فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى، كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا: آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی۔ پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز (تبدیلی) آ گئی ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ صحابہ نے عرض کی: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ (راوی نے کہا:) آپ نے اپنے پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور اس کے مطابق (نماز کی) تکمیل کرے، پھر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1274]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة