يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے اور (درمیان کے تشہد کے لیے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة