بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 537 صحیح مسلم
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: فَلَا تَأْتِهِمْ، قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ، فَذَاكَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ، تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ دونوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حجاج صواف سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکیم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» اللہ تجھ پر رحم کرے۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے (دل میں) کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم سب کو کیا ہو گیا کہ مجھے گھور رہے ہو؟ پھر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں (تو مجھے عجیب لگا) لیکن میں خاموش رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (سکھانے والا) نہیں دیکھا! اللہ کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابھی تھوڑا عرصہ پہلے میں جاہلیت میں تھا، اور اللہ نے اسلام سے نواز دیا ہے، ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں (پیش گوئی کرنے والوں) کے پاس جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جانا۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے)، یہ (وہم) انہیں (ان کے) کسی کام سے نہ روکے۔ (محمد) ابن صباح نے روایت کی: یہ تمہیں کسی صورت (اپنے کاموں سے) نہ روکے۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں، وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔ (لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے۔) (معاویہ بن ابی حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا:) میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف جا نکلا تو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑ جڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی (غلط) حرکت قرار دیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1199]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1199 صحیح مسلم
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: فَلَا تَأْتِهِمْ، قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ، فَذَاكَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ، تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ دونوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حجاج صواف سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکیم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» اللہ تجھ پر رحم کرے۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے (دل میں) کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم سب کو کیا ہو گیا کہ مجھے گھور رہے ہو؟ پھر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں (تو مجھے عجیب لگا) لیکن میں خاموش رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (سکھانے والا) نہیں دیکھا! اللہ کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابھی تھوڑا عرصہ پہلے میں جاہلیت میں تھا، اور اللہ نے اسلام سے نواز دیا ہے، ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں (پیش گوئی کرنے والوں) کے پاس جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جانا۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے)، یہ (وہم) انہیں (ان کے) کسی کام سے نہ روکے۔ (محمد) ابن صباح نے روایت کی: یہ تمہیں کسی صورت (اپنے کاموں سے) نہ روکے۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں، وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔ (لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے۔) (معاویہ بن ابی حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا:) میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف جا نکلا تو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑ جڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی (غلط) حرکت قرار دیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1199]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 537 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1200]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1200 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1200]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 538 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأبو سعيد الأشج ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأبو سعيد الأشج وألفاظهم متقاربة، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، سَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرُدُّ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن فضیل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو، جب آپ نماز میں ہوتے تھے، سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے، ہم نے آپ کو (نماز میں) سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: نماز میں (اس کی اپنی) مشغولیت ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1201]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأبو سعيد الأشج ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأبو سعيد الأشج وألفاظهم متقاربة، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، سَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرُدُّ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن فضیل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو، جب آپ نماز میں ہوتے تھے، سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے، ہم نے آپ کو (نماز میں) سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: نماز میں (اس کی اپنی) مشغولیت ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1201]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 538 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، الأَعْمَشِ
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابن فضیل کے بجائے) ہریم بن سفیان نے اعمش سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مثل حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1202]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1202 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، الأَعْمَشِ
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابن فضیل کے بجائے) ہریم بن سفیان نے اعمش سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مثل حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1202]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 539 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238، " فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حارث بن شبیل سے، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری: «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھڑے ہو۔ تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1203]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1203 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238، " فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حارث بن شبیل سے، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری: «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھڑے ہو۔ تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1203]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 539 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ہشیم کے بجائے) عبداللہ بن نمیر، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1204]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1204 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ہشیم کے بجائے) عبداللہ بن نمیر، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1204]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 540 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ، قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَانِي، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپ کو آ کر ملا، آپ سفر میں تھے، قتیبہ نے کہا: آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1205]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1205 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ، قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَانِي، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپ کو آ کر ملا، آپ سفر میں تھے، قتیبہ نے کہا: آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1205]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 540 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ: هَكَذَا، وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي: هَكَذَا، فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي "، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ: جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ: إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَقَالَ بِيَدِهِ: إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح (اشارے سے کچھ) کہا۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں، آپ (رکوع و سجود کے لیے) سر سے اشارہ فرماتے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو پوچھا: جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا، تم نے (اس کے بارے میں) کیا کیا؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ زہیر نے کہا: ابوزبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے، ابوزبیر نے بنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انہوں (ابوزبیر) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا (سواری پر نماز کے دوران آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1206]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ: هَكَذَا، وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي: هَكَذَا، فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي "، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ: جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ: إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَقَالَ بِيَدِهِ: إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح (اشارے سے کچھ) کہا۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں، آپ (رکوع و سجود کے لیے) سر سے اشارہ فرماتے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو پوچھا: جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا، تم نے (اس کے بارے میں) کیا کیا؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ زہیر نے کہا: ابوزبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے، ابوزبیر نے بنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انہوں (ابوزبیر) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا (سواری پر نماز کے دوران آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1206]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 540 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، كَثِيرٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ، عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے کثیر (بن شنظیر) سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1207]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1207 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، كَثِيرٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ، عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے کثیر (بن شنظیر) سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1207]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 540 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوارث بن سعید نے کہا: ہمیں کثیر بن شنظیر نے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا (آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1208]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1208 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوارث بن سعید نے کہا: ہمیں کثیر بن شنظیر نے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا (آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1208]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة